بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع اننت پور کے ایک سرکاری اسکول میں پیش آنے والے ہولناک واقعے کے بعد یہ بحث شروع ہوگئی کہ کیا فلموں میں دکھائے جانے والے وحشیانہ مناظر ایسے پرتشدد رجحانات کو عام کرنے کا سبب بن رہے ہیں؟
آندھرا پردیش کے علاقے راپٹاڈو کے ایک اسکول میں ایک شخص نے مبینہ طور پر کلاس روم میں گھس کر طالب علموں پر چینسا سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک طالبہ شدید زخمی ہو گئی اور اس کا ایک ہاتھ بھی کٹ گیا۔
کلاس 10 کے طالب علموں پر چینسا (آری نما آلے) سے کیے گئے حملے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا فلموں میں دکھائے جانے والے وحشیانہ مناظر ایسے پرتشدد رجحانات کو عام کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
واقعے کے بعد جب سوشل میڈیا صارفین نے ’اینمل‘ اور ’کے جی ایف‘ جیسی پرتشدد فلموں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسی فلمیں معاشرے میں تشدد کو نارملائز کرتی ہیں۔
تاہم فلم ساز رام گوپال ورما تشدد نارمل کرنے کے الزام کے خلاف سامنے آئے اور سوشل میڈیا پر لکھا، ’فلموں میں تشدد کا الزام لگانا ایسا ہی ہے جیسے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کا الزام رامایاں پر لگایا جائے۔‘
رام گوپال ورما کے اس بیان پر انٹرنیٹ صارفین نے شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کے اس مؤقف کو مسترد کردیا۔
صارفین کا کہنا تھا کہ سنیما معاشرے اور نوجوانوں کی سوچ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، لہٰذا فلم سازوں کو اپنی تخلیقات میں اخلاقی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔