آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور بالوں کا گرنا آئرن کی کمی کی علامات ہوسکتی ہیں؟ ماہرین کی وضاحت

—فائل فوٹو

آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، جلد کی زردی اور بالوں کا گرنا جسم میں آئرن کی کمی کی علامات قرار دیے جا رہے ہیں۔

 سوشل میڈیا پر ان علامات کو ’فیرٹین فیس‘ کا نام دیا گیا ہے، تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے پر نظر آنے والی یہ تبدیلیاں آئرن کی کمی کی قابلِ اعتماد علامات نہیں اور صرف ان کی بنیاد پر کسی شخص میں آئرن کی کمی کی تشخیص نہیں کی جاسکتی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس رجحان کے مطابق آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے، ناخنوں کا کمزور ہونا، بالوں کا گرنا اور ہونٹوں کے کونوں پر زخم یا دراڑیں جسم میں آئرن کی مقدار کم ہونے کی نشاندہی کرسکتی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق ان علامات کی متعدد دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔

فیرٹین کیا ہے اور اس کی اہمیت کیوں ہے؟

فیرٹین ایک ایسا پروٹین ہے جو جسم میں آئرن ذخیرہ کرتا ہے، آئرن خون کے سرخ خلیوں میں موجود ہیموگلوبن بنانے کے لیے ضروری ہے، جو جسم کے مختلف حصوں تک آکسیجن پہنچاتا ہے۔

کیا جلد کی زردی آئرن کی کمی کی علامت ہے؟

آئرن کی کمی خصوصاً انیمیا کی صورت میں جلد کی رنگت زرد یا پھیکی پڑ سکتی ہے، تاہم جلد کی رنگت میں تبدیلی کی کئی دوسری وجوہات بھی ہوسکتی ہیں، اس لیے صرف چہرے کو دیکھ کر آئرن کی کمی کی تشخیص ممکن نہیں۔

کیا آئرن کی کمی سے بال گرتے ہیں؟

آئرن کی کمی کا شکار بعض افراد کے بال بھی گرنے لگتے ہیں، تاہم بالوں کے گرنے کی واحد وجہ آئرن کی کمی نہیں، ذہنی دباؤ، تھائیرائڈ کے مسائل، ہارمونز میں تبدیلی اور دیگر غذائی اجزا کی کمی بھی بالوں کے کمزور ہونے اور گرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

ناخنوں کی کمزوری اور ہونٹوں کے کونوں پر دراڑیں

آئرن کی کمی کے باعث ناخن کمزور اور بھربھرے ہوسکتے ہیں، شدید کمی کی صورت میں ناخن چمچ کی طرح اندر کی جانب دھنس بھی سکتے ہیں، جسے طبی زبان میں کوئلونیخیا کہا جاتا ہے۔

اسی طرح ہونٹوں کے کونوں پر دراڑیں یا زخم بھی آئرن سمیت بعض غذائی اجزا کی کمی سے منسلک ہوسکتے ہیں، تاہم فنگل انفیکشن، جلد میں جلن اور جلد کی دیگر بیماریاں بھی اس مسئلے کا سبب بن سکتی ہیں۔

کیا آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کا تعلق آئرن کی کمی سے ہے؟

بعض افراد میں آئرن کی کمی اور اس کے نتیجے میں خون کی کمی کے باعث چہرے کی رنگت پھیکی پڑنے سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے زیادہ نمایاں ہوسکتے ہیں، تاہم یہ آئرن کی کمی کی مستند یا قابلِ بھروسہ علامت نہیں۔

ماہرین کے مطابق جینیاتی عوامل، عمر بڑھنے، نیند کی کمی، الرجی اور آنکھوں کے گرد جلد کی قدرتی ساخت بھی سیاہ حلقوں کی عام وجوہات میں شامل ہیں، اس لیے صرف سیاہ حلقوں کی موجودگی کو آئرن کی کمی کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

آئرن کی کمی کی عام علامات

طبی ماہرین کے مطابق جسم میں آئرن کی کمی کی ممکنہ علامات میں مسلسل تھکاوٹ، توانائی کی کمی، سانس لینے میں دشواری، دل کی تیز دھڑکن، سر درد، چکر آنا، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل، جلد کی رنگت پھیکی پڑنا، بالوں کا گرنا اور ناخنوں کا کمزور ہونا شامل ہیں۔

بعض افراد میں آئرن کی کمی کے ابتدائی مراحل میں کوئی واضح علامت بھی ظاہر نہیں ہوتی۔

آئرن کی کمی کی تشخیص کے لیے خون کا ٹیسٹ ضروری

ڈاکٹر جسم میں آئرن کے ذخائر جانچنے کے لیے فیرٹین کا خون کا ٹیسٹ تجویز کرسکتے ہیں، جبکہ مکمل خون کی جانچ یعنی سی بی سی کے ذریعے ہیموگلوبن اور خون کے دیگر اجزا کی سطح معلوم کی جاتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بتائی گئی علامات یا چہرے کی ظاہری تبدیلیوں کی بنیاد پر خود تشخیص سے گریز کرنا چاہیے، اسی طرح ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر آئرن سپلیمنٹس استعمال کرنا بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے، کیونکہ جسم میں آئرن کی ضرورت سے زیادہ مقدار جمع ہونے سے سنگین طبی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

اگر کسی شخص کو مسلسل تھکاوٹ، سانس لینے میں دشواری یا غیر معمولی طور پر بال گرنے کی شکایت ہو تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کر کے ضروری ٹیسٹ کروانے چاہئیں۔