دلجیت دوسانجھ سے اختلاف پر بھارتی رہنما ابھیجیت ڈپکے نے معافی مانگ لی

—فائل فوٹو

بھارتی پنجابی گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ پر طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنے پر تنقید کرنے والے بھارتی سیاسی رہنما ابھیجیت ڈپکے نے ان سے عوامی سطح پر معذرت کرلی۔

یہ معاملہ اس وقت دوبارہ زیرِ بحث آیا جب دلجیت دوسانجھ نے جمعے کی شام نئی دہلی کے جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں اپنے کنسرٹ کے دوران تنقید کا جواب دیا۔

 گلوکار نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ کسی کو پنجابیوں کو لڑنا نہیں سکھانا چاہیے۔

 انہوں نے اپنی فلم ’ستلج‘ کا اسٹیج پر مذاق اڑائے جانے پر بھی اعتراض کیا۔

دلجیت دوسانجھ کا کہنا ہے کہ میں ایک فنکار ہوں اور سب سے محبت کرتا ہوں، اگر میں خاموش ہوں تو مجھے خاموش رہنے دیا جائے، میں سب کی حمایت کرتا ہوں، تاہم کسی کو پنجابیوں کو لڑنا سکھانے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے اپنی فلم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ جسونت سنگھ خلرا کی زندگی پر بنائی گئی فلم ہے، جس کے لیے میں نے طویل جدوجہد کی ہے۔

گلوکار کے بیان کے بعد ابھیجیت ڈپکے نے انسٹاگرام پر معذرت کرتے ہوئے انہیں اپنا چھوٹا بھائی قرار دیا۔

 ان کا کہنا ہے کہ جون میں طلبہ کے احتجاج کے دوران دلجیت دوسانجھ کے بیان سے مجھے دکھ پہنچا تھا، کیونکہ میں ہمیشہ انہیں ایک ایسے فنکار کے طور پر دیکھتا آیا ہوں جو اہم مسائل پر آواز اٹھاتا ہے۔

ابھیجیت ڈپکے نے مزید کہا کہ اختلاف یا غلط فہمی سے میرے دل میں گلوکار کے لیے عزت اور پسندیدگی کم نہیں ہوئی، میں آج بھی ان کے گانے سنتا ہوں اور ان کی جرأت، حقیقت پسندی اور عالمی سطح پر بھارت کی نمائندگی کرنے کے انداز کو سراہتا ہوں۔

انہوں نے اپنی معذرت کے اختتام پر پنجابی زبان میں لکھا کہ باقی بھائی، مجھے چھوٹا بھائی سمجھ کر معاف کردیں اور اس معاملے کو ختم کردیں۔

واضح رہے کہ یہ تنازع جون میں اس وقت شروع ہوا تھا جب دہلی میں نیٹ امتحان کے پرچے کے مبینہ افشا اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں شرکت سے متعلق سوال پر گلوکار نے خود کو اس معاملے سے الگ کرلیا تھا۔

انسٹاگرام لائیو کے دوران ایک مداح کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے ان معاملات سے دور رکھا جائے، میں ایک فنکار ہوں، سیاست دان نہیں اور مجھے سیاسی معاملات کی سمجھ نہیں۔

ان کے اس بیان پر کئی حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی اور 2020ء میں کسانوں کے احتجاج کی حمایت کرنے والے ان کے سابقہ مؤقف سے موازنہ کیا گیا۔

ابھیجیت ڈپکے نے بھی گلوکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’ستلج‘ جیسی سیاسی موضوعات پر مبنی فلموں میں کام کرتے ہیں، لیکن طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر خاموش رہے۔