نظریات پر ثابت قدم رہنے کی وجہ سے پرکاش راج کو پیشہ ورانہ زندگی میں نقصان اٹھانا پڑا، اہلیہ

بالی ووڈ اور ساؤتھ کے معروف اداکار پرکاش راج کی اہلیہ پونی ورما کا کہنا ہے کہ اپنے نظریات پر ثابت قدم رہنے کی وجہ سے ان کے شوہر کو پیشہ ورانہ زندگی میں نقصان اٹھانا پڑا اور انہیں فلموں اور اشتہارات کے کئی مواقع سے محروم ہونا پڑا۔

بنگلور سے تعلق رکھنے والے 61 سالہ پرکاش راج ان چند اداکاروں میں شامل ہیں جو کھل کر اپنے سیاسی نظریات کا اظہار کرتے ہیں۔ انھوں نے میڈیکل کالجوں میں داخلہ ٹیسٹ کے امتحانی پرچے کے لیک ہونے کے معاملے پر دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں بھرپور شرکت اور حمایت کی تھی۔ 

ایک حالیہ گفتگو میں ان کی اہلیہ پونی ورما نے بتایا کہ سیاسی معاملات پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے کے باعث پرکاش راج کو کام ملنا بند ہوا۔ بھارتی میڈیا سے گفتگو میں پونی ورما نے کہا 2017 میں ان کے قریبی دوست اور صحافی گوری لنکیش کو فائرنگ سے قتل کیے جانے کے بعد پرکاش راج مکمل طور پر ٹوٹ گئے تھے اور شدید صدمے میں مبتلا ہوگئے تھے۔ 

انہوں نے بتایا کہ گوری لنکیش کی موت نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا اور انہوں نے خاموش رہنے کے بجائے اہم سوالات اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم پونی ورما نے اعتراف کیا کہ پرکاش راج کی بے باکی اور کھل کر اظہار خیال کرنے کی عادت کی انہیں اکثر پیشہ ورانہ زندگی میں قیمت چکانا پڑی۔

ان کے مطابق سیاسی مؤقف کی وجہ سے انھیں فلموں کے کئی مواقع اور اشتہارات کے معاہدوں سے محروم ہونا پڑا۔ سب جانتے ہیں پرکاش ایک نڈر انسان ہیں۔ انہیں تیلگو فلم انڈسٹری میں کئی مرتبہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہتے ہیں۔ 

پونی نے کہا میں جانتی ہوں کہ ان کے مؤقف کی وجہ سے فلم انڈسٹری میں ان کے کام پر کتنا اثر پڑا۔ اشتہارات ان کے ہاتھ سے نکل گئے اور فلمیں بھی ان سے واپس لے لی گئیں۔ انہیں اپنے پیشے میں بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ میرا ضمیر مجھے بتاتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ غلط ہے، اس لیے مجھے اسے قبول نہیں کرنا چاہیے۔

فلمی محاذ پر پرکاش راج آخری مرتبہ اجے دیوگن کی بلاک بسٹر فلم دریشیم: دی کنکلوژن میں نظر آئے تھے۔ ان کی آنے والی فلموں میں ایس ایس راجامولی کی وارانسی اور ونے کمار سری گینیدی کی جی 2 شامل ہیں۔