پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکار جوڑی سنیتا مارشل اور حسن احمد نے حال ہی میں ایک پروگرام میں شرکت کے دوران اپنے بچپن میں والد کی عدم موجودگی اور اس کے اثرات کے بارے میں کھل کر گفتگو کی ہے۔
دونوں اداکاروں نے ایک مارننگ شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے بتایا کہ کس طرح والد کی مصروفیات نے ان کی زندگی اور رشتوں کو متاثر کیا۔
حسن احمد نے اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ والد پاک فضائیہ میں خدمات انجام دیتے تھے اور انتہائی مصروف معمولات کے باعث صبح 6 بجے گھر سے نکلتے اور دوپہر 2 بجے واپس آتے تھے، والد کی شخصیت اتنی باوقار اور رعب دار تھی کہ میں بارہویں جماعت تک ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر پاتا تھا۔
حسن احمد کے مطابق بچپن میں مجھے والد کی کمی کا احساس نہیں ہوا، تاہم یونیورسٹی میں داخلے، ملازمت، ماڈلنگ اور شادی کی تیاری کے دوران والد میرے لیے سب سے بڑا سہارا بن کر سامنے آئے، آج میں والد کی حمایت کو شدت سے محسوس کرتا ہوں اور ان کی درازیٔ عمر کے لیے دعاگو ہوں۔
دوسری جانب سنیتا مارشل نے بتایا ہے کہ میرے والد بیرونِ ملک ملازمت کرتے تھے اور دبئی میں قیام کے دوران آئل رِگز پر کام کرنے کے باعث انہیں کئی کئی ماہ گھر سے دور رہنا پڑتا تھا، بعد ازاں پاکستان واپسی پر انہوں نے چیونگم کی فیکٹری قائم کر لی، جس کی مصروفیات میں وہ زیادہ وقت گزارتے تھے، جبکہ گھر کی ذمے داری والدہ سنبھالتی تھیں۔
اداکارہ کا کہنا ہے کہ جب تک والد ریٹائر ہوئے، میں خود اپنے کیریئر میں مصروف ہو چکی تھی، میں کبھی اپنے والد کے زیادہ قریب نہیں رہی اور 3 سال قبل ان کے انتقال کے باوجود آج بھی مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ ایک گرم جوش اور قریبی تعلق قائم نہیں کر سکی۔
سنیتا مارشل نے کہا ہے کہ بچوں کی زندگی میں والد کی غیر موجودگی کئی مسائل، صدمات اور ایک ایسا خلاء پیدا کر سکتی ہے جس کے اثرات بڑے ہونے کے بعد بھی برقرار رہتے ہیں، یہ کمی بعض مردوں کے رویوں کو متاثر کرتی ہے اور ان میں غصے کے مسائل پیدا ہونے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
اس موقع پر حسن احمد نے کہا ہے کہ والد کی غیر موجودگی کا اثر لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں پر زیادہ پڑتا ہے۔