بالی ووڈ اداکارہ سارہ علی خان نے فلمی صنعت میں اقربا پروری کے حوالے سے خاموشی توڑتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ معروف فلمی خاندان سے تعلق رکھنے کے باعث مجھے کئی فوائد حاصل ہوئے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر مسلسل تنقید میری محنت اور کیریئر کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نظر انداز کر کے کی جاتی ہے۔
سیف علی خان اور امرتا سنگھ کی 31 سالہ بیٹی سارہ علی خان نے حالیہ انٹرویو میں فلمی خاندان میں پیدا ہونے کے فوائد اور اس سے جڑی تنقید پر کھل کر بات کی۔
ان کا کہنا ہے کہ میں اس حقیقت سے انکار نہیں کرتی کہ خاندانی پس منظر نے میرے لیے فلمی دنیا کے دروازے کھولے، پہچان دی اور اداکارہ بننے سے پہلے ہی شہرت حاصل ہوئی۔
سارہ علی خان نے کہا ہے کہ اقربا پروری اب لوگوں کے لیے ایک منفی اصطلاح بن چکی ہے، تاہم مجھے اس بات پر اعتراض ہے کہ اس بحث کے باعث میری اپنی محنت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، سارہ، جھانوی کپور اور اننیا پانڈے نے اپنے خاندانوں کا انتخاب خود نہیں کیا تھا۔
اداکارہ نے اعتراف کیا ہے کہ مجھے فلمی دنیا میں قدم رکھنے کا ایسا موقع ملا جس کی بہت سے نئے فنکار خواہش رکھتے ہیں، لیکن کیریئر کے 8 سال گزرنے کے باوجود مجھے مسلسل اپنی صلاحیتوں اور کامیابیوں کا دفاع کرنا پڑ رہا ہے، جو کہ درست نہیں۔
سارہ علی خان نے کہا ہے کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہوں، والد نے میرے لیے فلمی اداروں کے چکر نہیں لگائے، نہ ہی معاہدوں پر بات چیت کی اور نہ ہی فلموں میں کام دلوانے کے لیے کسی سے درخواستیں کیں۔
انہوں نے فلم ’کیدارناتھ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب اس فلم کے حوالے سے مجھے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تو میں نے خود ہی ان سے نمٹنے کی کوشش کی، فلمی صنعت میں کسی بااثر سرپرست کی عدم موجودگی میرے لیے ایک مشکل پہلو رہی ہے، اسی لیے اقربا پروری کے فوائد اور نقصانات دونوں کو سمجھنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ سارہ علی خان کا تعلق بالی ووڈ کے معروف خاندان سے ہے، ان کے والد سیف علی خان اور والدہ امرتا سنگھ دونوں اداکار ہیں، جبکہ ان کی دادی شرمیلا ٹیگور معروف اداکارہ اور دادا منصور علی خان پٹودی بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رہ چکے ہیں، سارہ کی نانی رخسانہ سلطانہ مصنفہ اور سیاست دان تھیں۔
سیف علی خان اور امرتا سنگھ کی 2004ء میں طلاق ہو گئی تھی، جس کے بعد سارہ کی پرورش زیادہ تر ان کی والدہ نے کی۔