نوجوانوں کیلئے پروٹین شیک مفید یا نقصاندہ؟

پروٹین سے بنی مصنوعات کو پٹھے بنانے اور وزن کم کرنے کے طریقے کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے اور نوجوانوں میں یہ بہت مقبول ہیں۔ ان مصنوعات کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ یہ بچوں کی صحت مند نشوونما میں مدد دیتی ہیں۔ کیا یہ دعویٰ درست ہے؟ اور صحت کے لیے روزانہ کتنی پروٹین ضروری ہے؟

پروٹین پاؤڈر کو مشروب میں ملا کر پیا جا سکتا ہے یا اسے اسنیک بار کی شکل میں کھایا جا سکتا ہے۔ پوڈنگز اور مخصوص اقسام کی روٹی کو بھی پروٹین کے ذرائع کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔ 

اس کے علاوہ، پروٹین سے بھرپور مصنوعات، مثلاً کنڈرشیک اور ٹین بیلنس، خاص طور پر نوجوانوں کو متوجہ کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں اور بظاہر یہ حکمت عملی کامیاب بھی ہو رہی ہے۔

جرمن نیوٹریشن سوسائٹی مشورہ دیتی ہے کہ کھلاڑی اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی معمول کی خوراک کو بہتر بنائیں۔ اس بات کے حق میں کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں کہ جسمانی مشقت کے دوران ہمارے جسم کو لازماً پروٹین سے بھرپور خصوصی غذائی سپلیمنٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

مشیگن یونیورسٹی کی جانب سے 2024 میں تقریباً ایک ہزار والدین پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق تقریباً نصف والدین نے بتایا کہ ان کے 13 سے 17 سال کی عمر کے بچوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران پروٹین سے بنی مصنوعات استعمال کی تھیں۔ 

سروے سے معلوم ہوا لڑکیوں کی نسبت لڑکے ان مصنوعات کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، خصوصاً کھیلوں میں کارکردگی بہتر بنانے یا پٹھے بنانے کے لیے۔ اس کے برعکس، لڑکیاں اپنی غذا میں توازن پیدا کرنے اور وزن کم کرنے کے لیے ان کا استعمال کرتی ہیں۔

1۔ پروٹین جسم کے لیے کیوں ضروری ہے؟ 
پروٹین ہمارے جسم کے میٹابولزم اور نشوونما کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ پٹھوں، جلد اور جسمانی اعضا کے ٹشوز کی تعمیر اور ان کی مرمت میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ایسے خامروں کی تشکیل کی بنیاد بھی ہے جو جسم میں کیمیائی عمل کو منظم کرتے ہیں۔ یہ مدافعتی نظام کے لیے ضروری اینٹی باڈیز بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ 

جرمن نیوٹریشن سوسائٹی کے مطابق صحت مند بالغ افراد کو روزانہ اپنے جسمانی وزن کے ہر کلوگرام کے لیے 0.8 گرام پروٹین استعمال کرنی چاہیے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ناشتے میں بادام کا دودھ اور جو کے دلیے کا ایک پیالہ، دوپہر میں بیکڈ آلو اور دہی یا پنیر، جبکہ رات کو مونگ پھلی بٹر کے ساتھ ثابت اناج کی روٹی کے دو سلائس کھانے سے بھی پروٹین کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے۔

نوجوانوں کو چونکہ ابھی نشوونما کے مراحل سے گزرنا ہوتا ہے، اس لیے انہیں نسبتاً زیادہ پروٹین درکار ہوتی ہے۔ ان کے لیے تجویز کردہ مقدار جسمانی وزن کے ہر کلوگرام کے لیے 0.9 گرام ہے۔ 65 سال سے زائد عمر کے افراد اور ایک سے چار سال کے بچوں کو بھی نسبتاً زیادہ پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔

بڑی عمر کے افراد اکثر ضرورت سے کم پروٹین استعمال کرتے ہیں، جس کی ایک وجہ بھوک میں کمی ہے۔ اس کے برعکس، 2015 سے 2017 کے دوران جرمنی میں کی گئی ایک تحقیق سے ظاہر ہوا کہ وہاں بچوں اور نوجوانوں کی غذا میں اکثر پروٹین کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہوتی ہے۔ 

2۔ کیا ضرورت سے زیادہ پروٹین خطرناک ہو سکتی ہے؟ 
جرمن نیوٹریشن سوسائٹی کے مطابق طویل عرصے تک ضرورت سے زیادہ پروٹین کا استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مختلف تحقیق کے مطابق جو بچے ضرورت سے زیادہ پروٹین خصوصاً حیوانی پروٹین استعمال کرتے ہیں، ان میں اکثر موٹاپے کا امکان بڑھتا ہے اور بعض بچوں میں بلوغت کا آغاز بھی نسبتاً جلد ہو سکتا ہے۔ سب سے بڑھ کر پروٹین کی زیادتی گردوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ 

جو افراد بہت زیادہ جسمانی سرگرمی کرتے ہیں، انہیں عموماً زیادہ پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ جرمن نیوٹریشن سوسائٹی کے مطابق، پروٹین پٹھوں کی مقدار اور طاقت برقرار رکھنے یا بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ جسمانی مشقت کے بعد بحالی کے عمل میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔  کھلاڑیوں کو روزانہ جسمانی وزن کے ہر کلوگرام کے لیے 1.2 سے 2 گرام پروٹین استعمال کرنی چاہیے۔ 

3۔ کیا حیوانی پروٹین، نباتاتی پروٹین سے بہتر ہے؟ 
مجموعی طور پر نباتاتی پروٹین میں ضروری امینو ایسڈز کی مقدار عموماً حیوانی پروٹین کے مقابلے میں کچھ کم ہوتی ہے۔ ان امینو ایسڈز کو ضروری اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ انسانی جسم انہیں خود تیار نہیں کر سکتا، بلکہ انہیں غذا کے ذریعے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ تاہم ثابت اناج، دالیں اور گری دار میوے بھی پروٹین کے اچھے ذرائع ہیں۔

4۔ پروٹین مصنوعات پر تنقید کیوں کی جاتی ہے؟ 
پروٹین پاؤڈرز اور بارز میں اکثر وٹامنز اور معدنیات کے ساتھ ساتھ مصنوعی مٹھاس، چینی، مختلف اضافی اجزا اور ذائقے بڑھانے والے مادے بھی شامل کیے جاتے ہیں، جو صحت کے لیے ہمیشہ مفید نہیں ہوتے۔ خاص طور پر نوعمر افراد کو پروٹین پاؤڈر استعمال کرنے کے نتیجے میں جلد سے متعلق ایک ناخوش گوار ضمنی اثر (کیل مہاسے) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ 

پروٹین پاؤڈرز عموماً دودھ سے حاصل ہونے والی پروٹین پر مشتمل ہوتے ہیں۔ تاہم دودھ سے حاصل ہونے والی پروٹین مصنوعات اور کیل مہاسوں کے درمیان تعلق کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔

ماہرین پروٹین شیکس کے استعمال کے بارے میں اس خدشے کے باعث بھی محتاط ہیں کہ نوجوان کہیں ان کی وجہ سے معمول کے کھانے کم نہ کر دیں۔ ایسا ہونے کی صورت میں انہیں فائبر، ضروری غذائی اجزا، وٹامنز، معدنیات اور صحت مند چکنائی کم مقدار میں مل سکتی ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔