پاکستانی اداکار ہارون شاہد نے بھاری حق مہر کے مطالبے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض والدین بیٹی کے مستقبل کے تحفظ کے نام پر دراصل اپنے مالی تحفظ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔
حال ہی میں اداکار نے نجی ٹی وی چینل کے شو میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے بھاری حق مہر کے مطالبے اور لڑکیوں کے مالی تحفظ کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
گفتگو کے دوران ہارون شاہد نے کہا کہ میری ایک بیٹی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص اس کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں اپنے داماد کے سامنے یہ شرط رکھ دوں کہ وہ میری بیٹی کے نام جائیداد کرے، لیکن دوسری جانب وہ میری بیٹی کی تذلیل کرے اور اس کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آئے تو ایسی مالی ضمانت کا کوئی فائدہ نہیں۔
اداکار کے مطابق میرے خیال میں بھاری حق مہر کا مطالبہ کرنے والے بعض والدین دراصل اپنی فنانشل سیکیورٹی چاہتے ہیں، انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں کہیں ان کی بیٹی ان پر بوجھ نہ بن جائے۔
انہوں نے کہا کہ سچ کہوں تو مجھے لگتا ہے کہ نکاح کے وقت بھاری مطالبات کرنا نامناسب ہے، جبکہ حق مہر کے معاملے پر بحث کو سب سے کم اہمیت دی جانی چاہیے۔
اداکار نے کہا کہ حق مہر کو کسی کاروباری لین دین کی صورت اختیار نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اس کا تعین مرد کی مالی حیثیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔
ہارون شاہد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کوئی شخص محض بھاری حق مہر کی شرط کے باعث اپنی بیوی کو چھوڑنے سے گریز کرے تو اس کے رویے میں بہتری کی ضمانت نہیں، ایسے حالات میں وہ شخص اپنی بیوی سے چھٹکارا پانے کے لیے نقصان دہ راستوں کے بارے میں بھی سوچ سکتا ہے، حتیٰ کہ اس کی موت کی خواہش جیسی انتہائی خطرناک سوچ بھی پیدا ہو سکتی ہے۔