آٹزم کے شکار افراد کے دماغ پر غلطی کی نشاندہی کا اثر کم ہوتا ہے: تحقیق میں انکشاف

—فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا 

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) سے متاثرہ آٹسٹک دماغ رکھنے والے افراد غلطی کی نشاندہی پر غیر آٹسٹک افراد کے مقابلے میں کم ردِعمل ظاہر کرتے ہیں جس سے بعض افراد کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے رویے میں تبدیلی لانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

تحقیق برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی اور یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کی جس کے نتائج جریدے دی جرنل آف نیورو سائنس میں شائع ہوئے ہیں۔

محققین نے تجربے کے دوران شرکاء کی دماغی سرگرمی ریکارڈ کی، انہیں آوازوں کی شناخت کے کام دیے گئے اور غلط جواب دینے پر آگاہ کیا گیا۔

نتائج کے مطابق آٹسٹک افراد کے دماغوں نے منفی ردِعمل پر نسبتاً کم سرگرمی دکھائی، وہ اپنے فیصلوں پر اعتماد اور سابقہ کامیابیوں سے بھی کم متاثر ہوئے جبکہ غیر آٹسٹک افراد کے فیصلوں پر ان عوامل کا زیادہ اثر پڑا۔

تحقیق کے مطابق غیر آٹسٹک افراد آسان کام میں کامیابی کے بعد اگلے فیصلوں میں سابقہ تجربے سے زیادہ فائدہ اٹھاتے تھے جبکہ آٹسٹک افراد میں یہ رجحان نسبتاً کم تھا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ غلطیوں سے متعلق معلومات، اعتماد اور سابقہ تجربات کو مختلف انداز میں استعمال کرنے کا یہ فرق بعض آٹسٹک افراد کے لیے بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا مشکل بنا سکتا ہے۔


نوٹ: آٹزم ایک اعصابی نشوونما میں کمی کی کیفیت ہے جو انسان کے سماجی رابطوں، گفتگو، رویوں اور معلومات کو سمجھنے کے انداز پر مختلف طریقوں سے اثر انداز ہو سکتی ہے، یہ کوئی متعدی بیماری نہیں، ہر آٹسٹک فرد کی صلاحیتیں، ضروریات اور تجربات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے اس تحقیق کے نتائج تمام آٹسٹک افراد پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیے جا سکتے۔