اب تنقید کا نشانہ بننے کی عادت ہو گئی ہے: شاداب خان

پاکستانی آل راؤنڈر شاداب خان — فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

پاکستانی آل راؤنڈر شاداب خان نے سوشل میڈیا پر خود پر ہونے والی تنقید پر اپنے ردِعمل کا اظہار کر دیا۔

انہوں نے لاہور میں انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اب تنقید کا نشانہ بننے کی عادت ہو گئی ہے کیونکہ لوگ میری کارکردگی سے قطع نظر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

 شاداب خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران میری کارکردگی اچھی نہیں رہی جس کی وجہ سے ناصرف مجھے بلکہ ٹیم مینجمنٹ کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے مشکل وقت میں خود پر اعتماد برقرار رکھنے پر ٹیم مینجمنٹ کا شکریہ ادا کیا۔

پاکستانی آل راؤنڈر نے کہا کہ ایک پیشہ ور کھلاڑی کی حیثیت سے میں ہمیشہ اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن میں ماضی میں اپنی توقعات کے مطابق کھیلنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس میچ میں مجھے اچھا کھیلنے کا موقع دیا اور میرے لیے کامیابی کا راستہ بنایا۔

شاداب خان نے حارث رؤف کی صبر کے ساتھ بیٹنگ کرنے پر ان کی تعریف کی اور حارث رؤف کے ساتھ ناقابلِ شکست 89 رنز کی شراکت قائم کرنے کے بارے میں کہا کہ ہم دونوں کے درمیان بیٹنگ کے حوالے سے کوئی خاص حکمتِ عملی طے نہیں ہوئی تھی، ہم صرف کھیل سے لطف اندوز ہونے اور میچ کو اختتام تک لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ 

پاکستانی آل راؤنڈر اننگز کے دوران اس وقت شدید مایوس ہوئے تھے جب امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار دے دیا تھا اور پاکستان کو جیت کے لیے 20 رنز درکار تھے، تاہم ریویو لینے پر فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ مجھے ابتداء میں اندازہ نہیں ہوا تھا کہ گیند بلے سے لگی ہے۔

شاداب خان نے اپنی اننگز کا موازنہ آسٹریلیا کے گلین میکسویل کی 2023ء کے ورلڈ کپ میں افغانستان کے خلاف کھیلی گئی غیر معمولی اننگز سے کیے جانے پر کہا کہ ایک اننگز کا دوسری اننگز سے موازنہ نہیں کرنا چاہیے۔

اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ میکسویل نے ورلڈ کپ میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی تھی اور اگر پاکستانی کھلاڑی بھی مستقبل میں بڑے مقابلوں میں ایسی اننگز کھیلیں تو اس سے ٹیم کو فائدہ ہو گا۔