برطانوی وزیرِ دفاع ویس سٹریٹنگ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کو 2030 تک کسی بھی ممکنہ بیرونی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہونا ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ مخالف ریاستوں کی جانب سے برطانیہ کو مختلف نوعیت کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس لیے ملک کو ایسی کسی بھی جنگ کا مقابلہ کرنے اور اس میں کامیابی حاصل کرنے کے قابل بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ویس سٹریٹنگ کے مطابق مستقبل کا ممکنہ حملہ صرف روایتی فوجی کارروائی تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں سائبر حملے، تخریب کاری، اہم قومی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوششیں اور بیرونی ریاستوں کی سرپرستی میں دہشت گردی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے سمندر کے نیچے بچھائی گئی اہم انٹرنیٹ کیبلز اور توانائی کی پائپ لائنوں کی نگرانی سے متعلق اطلاعات نے برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق اگر نیٹو اور روس کے درمیان کسی قسم کا تصادم ہوا تو ان اہم تنصیبات کو نشانہ بنا کر برطانیہ کے مواصلاتی نظام اور توانائی کی فراہمی متاثر کی جا سکتی ہے۔
دریں اثنا حکومت نے ’’Be Ready‘‘ کے نام سے عوامی آگاہی مہم شروع کی ہے، جس کے تحت شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر کم از کم تین دن کی خوراک، پینے کے پانی اور دیگر ضروری اشیاء کا ذخیرہ اپنے گھروں میں رکھیں۔
وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ اس مہم کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ انداز میں انہیں ممکنہ ہنگامی حالات کے لیے پہلے سے تیار کرنا ہے۔