عام سی سفید پھول گوبھی غذایت کو بہترین بنا سکتی ہے، ماہرین

ماہرین غذایت کے مطابق پھول گوبھی جو ایک عام سی سفید سبزی ہے آپ کی غذایت کو بہترین بنا سکتی ہے۔ پھول گوبھی کو کئی دہائیوں تک اس قدر ابالا جاتا رہا کہ اس کی اصل شکل اور ذائقہ ہی بگڑ جاتا تھا، لیکن اس کے باوجود یہ سبزی بار بار مقبولیت حاصل کرتی رہی ہے اور آج بھی ہمارے کھانے کی میزوں کا حصہ ہے۔

یہ بند گوبھی کے خاندان کی سب سے زیادہ مختلف طریقوں سے استعمال ہونے والی سبزیوں میں سے ایک ہے، تاہم اپنی تاریخ کے بیشتر حصے میں اسے کھانوں میں زیادہ نمایاں مقام حاصل نہیں رہا۔

پھول گوبھی کا بروکولی، کیل اور برسلز اسپراؤٹس جیسی سبزیوں کے خاندان سے قریبی تعلق  ہے۔ یہ براسیکا خاندان سے تعلق رکھنے والی سبزی ہے، جس کا پھول نما حصہ دراصل غیر نمو یافتہ پھولوں کی کلیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ کلیاں ایک موٹے مرکزی تنے کے گرد مضبوطی سے جڑی ہوتی ہیں۔

اس کی کئی اقسام ہیں۔ اگرچہ سفید رنگ کی پھول گوبھی سب سے زیادہ عام اور قابل شناخت ہے، لیکن اس کی دیگر اقسام میں جامنی، سبز جسے اکثر بروکوفلاور کہا جاتا ہے اور حیرت انگیز طور پر پیچیدہ، گھومتی ہوئی شکل رکھنے والی رومانیسکو شامل ہیں۔

غذایت کے لحاظ سے ان اقسام میں مجموعی طور پر زیادہ فرق نہیں ہوتا، تاہم مختلف رنگوں والی پھول گوبھی میں بعض اوقات اینٹی آکسیڈنٹس کی مقدار قدرے زیادہ ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، جامنی پھول گوبھی میں اینتھوسائننز نامی مرکبات پائے جاتے ہیں، جبکہ سبز قسم میں کلوروفل کی اضافی مقدار موجود ہوتی ہے۔

غذایت کے اعتبار سے پھول گوبھی کی کوئی ایک قسم ایسی نہیں جسے واضح طور پر سب سے بہتر قرار دیا جا سکے۔ اس لیے کسی ایک قسم کے انتخاب کے بجائے مختلف اقسام کا استعمال زیادہ اہم ہے۔ مختلف رنگوں کی سبزیاں کھانا اپنی غذا میں مفید نباتاتی مرکبات کی اقسام بڑھانے کا ایک آسان طریقہ ہے۔

سفید پھول گوبھی وہ قسم ہے جس سے ہم سب واقف ہیں، لیکن یہ سبزی سبز، جامنی اور حتیٰ کہ شوخ نارنجی رنگ میں بھی دستیاب ہے۔ اس کا ذائقہ ہلکا اور ساخت مختلف طریقوں سے تیار کرنے کے لیے موزوں ہوتی ہے۔ اسے بھونا، ابالا، میش کرکے، تلا یا کچا بھی کھایا جا سکتا ہے۔ یہی خصوصیات اسے دنیا بھر میں مقبول بناتی ہیں۔

جنوبی یورپ اور نشاۃ ثانیہ کے دور میں بالخصوص اطالوی کھانوں میں اس کا استعمال عام ہونے لگا۔ سولہویں اور سترہویں صدی تک یہ شمالی یورپ میں بھی پہنچ گئی، جہاں کاشت کاری کی تکنیک میں ترقی کے باعث سرد آب و ہوا میں بھی اسے زیادہ قابل اعتماد طریقے سے اگانا ممکن ہو گیا۔

اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے دوران برطانیہ میں بھی پھول گوبھی کو کھانوں میں مستقل جگہ مل گئی۔ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی صدیوں سے بھارتی، افریقی اور مشرق وسطیٰ کے کھانوں میں پھول گوبھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ برصغیر میں اسے مصالحے دار سالن اور آلو گوبھی جیسے سبزیوں کے پکوانوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ شمالی افریقہ میں اسے ٹیگین اور بھنی ہوئی سبزیوں کے پکوانوں میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ایتھوپیا میں یہ سبزیوں کے مختلف اسٹوز کا حصہ ہے۔

ماہر غذایت اور نیچروپیتھک شیف ہانیہ وڈمار کے مطابق جب کیٹو ڈائٹ مقبول ہوئی تو پھول گوبھی اس غذا میں نمایاں مقام حاصل کرنے والی سبزیوں میں شامل تھی، کیونکہ اسے مختلف طریقوں سے تیار کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا پھول گوبھی فائبر کا ایک اچھا ذریعہ ہے، تاہم مجموعی طور پر اس میں فائبر کی مقدار بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ اس میں زیادہ تر ناقابل حل فائبر پایا جاتا ہے، جو غذا کو آنتوں میں آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے اور آنتوں کی باقاعدہ صفائی کے عمل کو بہتر بناتا ہے۔ اس طرح یہ نظام ہاضمہ کی صحت کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا پھول پھول گوبھی میں قدرتی طور پر چکنائی نہیں ہوتی۔ اس میں چکنائی صرف اس وقت شامل ہوتی ہے جب اسے تیل یا مکھن میں پکایا جائے۔ پھول گوبھی میں کاربوہائیڈریٹس بھی کم مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے وزن کم کرنے کے لیے مرتب کیے گئے غذائی منصوبے یا عمومی طور پر صحت مند غذا میں آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا پھول گوبھی کے ڈنٹھل اور پتے بھی کھانے کے قابل ہوتے ہیں، اگرچہ اکثر لوگ انہیں ضائع کر دیتے ہیں۔ آپ ان پتوں کو باریک کاٹ کر سوپ میں بھی شامل کر سکتے ہیں۔ اس طرح غذا میں اضافی فائبر شامل ہو جاتا ہے۔

بہت سے لوگ پھول گوبھی کے ڈنٹھل اور پتوں کو گاجر کے چھلکوں، بروکلی کے ڈنٹھلوں اور سبزیوں کے دیگر بچے ہوئے حصوں کے ساتھ ملا کر سبزیوں کا شوربہ تیار کرتے ہیں۔ پھول گوبھی میں وٹامن سی اور وٹامن کے کی مقدار قدرے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں میگنیشیم سمیت بعض دیگر غذائی اجزا بھی زیادہ پائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب، پھول گوبھی میں پینٹوتھینک ایسڈ اور وٹامن بی 6 کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔

پینٹوتھینک ایسڈ کو وٹامن بی 5 بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جسم میں کاربوہائیڈریٹس، چکنائی اور پروٹین کو قابلِ استعمال توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ہارمونز اور سرخ خون کے خلیات کی تیاری میں بھی حصہ لیتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کے معمول کے میٹابولزم کے لیے اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

پھول گوبھی میں وٹامن بی 5 کی مقدار مناسب حد تک موجود ہوتی ہے، اگر آپ فولیٹ، وٹامن بی 6 اور وٹامن سی سمیت مختلف مفید غذائی اجزا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھول گوبھی ایک بہترین انتخاب ہے۔

یہ غذائی اجزا جسم کے مختلف افعال میں مدد دیتے ہیں، جن میں قوتِ مدافعت، توانائی پیدا کرنے کا عمل اور اعصاب و پٹھوں کی معمول کی کارکردگی شامل ہیں۔ وٹامن سی جسم کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے اور کولیجن کی تیاری میں مدد دیتا ہے، جبکہ فولیٹ خلیات کی نشوونما اور ان کی مرمت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

خون پتلی کرنے والی دوا وارفرین استعمال کرنے والے افراد کو پھول گوبھی کھاتے وقت احتیاط کرنی چاہیے، کیونکہ اس میں وٹامن کے موجود ہوتا ہے، جو خون جمنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس دوا کے اثرات کو متاثر کر سکتا ہے۔

کچی پھول گوبھی ان افراد کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتی ہے جو تھائیرائڈ کی ادویات استعمال کرتے ہیں۔ پھول گوبھی کو پکانے سے عموماً ان مرکبات کے اثرات کم ہو سکتے ہیں اور اسے ہضم کرنا بھی نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔

پھول گوبھی نسبتاً کم مقدار میں کھانے سے بھی بعض افراد کو پیٹ میں گیس ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ اس میں موجود قابل تخمیر کاربوہائیڈریٹس اور فائبر ہیں۔ آئی بی ایس یعنی چڑچڑی آنتوں کے مرض میں مبتلا یا ایف او ڈی میپ ڈائٹ پر عمل پیرا افراد پھول گوبھی استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ان کی آنتوں میں جلن اور تکلیف پیدا کر سکتی ہے۔