بھارتی اداکارہ سیلینا جیٹلی نے شوہر سے علیحدگی اور طلاق کے معاملے کے دوران شادی، سمجھوتے اور خواتین کی مالی خودمختاری پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن انسٹاگرام پر اپنی تصاویر کے ساتھ جاری پیغام میں سیلینا نے کہا کہ شادی کے نام پر ایک عورت سے آخر کتنی قربانیوں اور سمجھوتوں کی توقع کی جا سکتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیائی اور دیگر معاشروں میں شادی کو تحفظ سمجھا جاتا ہے لیکن عورت کا حقیقی تحفظ تعلیم، مہارت، اپنا گھر، مالی خودمختاری اور غلط حالات سے نکلنے کی آزادی میں ہے۔
اداکارہ نے بتایا کہ گزشتہ سال جب مجھے بے سہارا، پیسے اور اثاثوں سے محروم چھوڑ دیا گیا تو مجھے اپنے اور بچوں کے مستقبل کی فکر نے گھیر لیا، یہی وجہ تھی کہ میں کئی سال تک تشدد پر مبنی ازدواجی زندگی میں رہنے پر مجبور رہی۔
سیلینا نے سوال اٹھایا کہ اگر خواتین کے پاس اپنا گھر، گاڑی، بینک میں رقم اور مالی خودمختاری ہو تو کتنی خواتین منفی اور تشدد پر مبنی رشتوں میں رہنے پر مجبور ہوں گی؟
ان کا کہنا ہے کہ بہت سی خواتین صرف اس لیے منفی اور زہریلے رشتے نہیں چھوڑ پاتیں کیونکہ ان کے پاس بچوں سمیت محفوظ زندگی شروع کرنے کے وسائل نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ ہر عورت کو اپنی تعلیم، ہنر، کام اور ذاتی بچت کے ذریعے خودمختار ہونے کا حق حاصل ہونا چاہیے، کسی عورت کو یہ فیصلہ کرنے سے پہلے کہ وہ کسی رشتے میں مزید نہیں رہ سکتی، بچوں کی رہائش، تحفظ اور کھانے پینے جیسے بنیادی مسائل کی فکر نہیں ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ اداکارہ سیلینا جیٹلی کی شادی 2010ء میں ہوئی تھی، ان کے ہاں 2012ء اور 2017ء میں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی۔
اداکارہ سیلینا جیٹلی اور ان کے شوہر پیٹر ہاگ کے درمیان طلاق کا معاملہ جاری ہے، پیٹر نے گزشتہ سال آسٹریا کی عدالت میں طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔