الرجی سے نجات کیلئے گھریلو ٹوٹکے اپنانے سے پہلے یہ اہم احتیاطی تدابیر جان لیں

— فائل فوٹو 

الرجی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام بعض ایسے مادوں کے خلاف ردعمل ظاہر کرتا ہے جو ہر شخص کو یکساں طور پر متاثر نہیں کرتے۔

پولن، گردوغبار، پالتو جانوروں کے بال اور جلد کے ذرات، پھپھوندی، کیڑوں کے ڈنک، کچھ غذائیں اور ادویات الرجی کی عام وجوہات میں شامل ہیں۔

الرجی پر قابو پانے کیلئے چند احتیاطی تدابیر

1- نمک ملے پانی سے ناک کی صفائی کرنے سے ناک اور سائنس میں جمع بلغم، الرجی پیدا کرنے والے ذرات، بیکٹیریا اور دیگر محرکات کو نکالنے میں مدد مل سکتی ہے۔ 

2- گھروں میں ہائی ایفیشنسی پارٹیکیولیٹ ایئر (HEPA) فلٹر استعمال کرنے سے ہوا میں موجود پولن، گردوغبار اور پالتو جانوروں کے ذرات کم کیے جاسکتے ہیں۔

3- ایئر کنڈیشنر اور ہوا سے نمی کم کرنے والے آلات بھی پھپھوندی کی افزائش محدود کرنے میں مددگار ہوسکتے ہیں، کیونکہ پھپھوندی اور نمی الرجی کی علامات کو بڑھا سکتی ہیں۔

کون سی مصنوعات الرجی کی علامات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں؟

1- انناس اور پپیتے میں پائے جانے والے برومیلین نامی خامرے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سوزش اور سوجن کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم الرجی کے علاج میں اس کی افادیت ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔

2- پروبائیوٹکس بھی مدافعتی نظام کو منظم کرنے اور بعض اقسام کی غذائی الرجی میں مدد دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کے فوائد کے بارے میں ابھی حتمی نتائج دستیاب نہیں۔

3- بچھو بوٹی (Stinging nettle) میں وٹامن سی، آئرن اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ اسے بھی قدرتی علاج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، تاہم الرجی پر اس کے اثرات کے لیے مضبوط سائنسی شواہد محدود ہیں۔

4- قدرتی صحت کی مصنوعات میں کوئرسیٹن (Quercetin) نامی مرکب بھی استعمال ہوتا ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہسٹامین کے اخراج کو مستحکم کر کے الرجی کی علامات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ مرکب بروکلی، پھول گوبھی، سبز چائے اور ترش پھلوں میں پایا جاتا ہے، تاہم اسے الرجی کا ثابت شدہ علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔

5- الرجی پر قابو پانے میں مدد دینے والی مصنوعات میں پیپرمنٹ سے حاصل کردہ مصنوعات میں مینتھول، مینتھون اور میتھائل ایسیٹیٹ بھی شامل ہیں۔

6- یوکلپٹس آئل کو بھی اس کی جراثیم کش خصوصیات کے باعث بعض اوقات استعمال کیا جاتا ہے لیکن گردوغبار کے باریک ذرات یا ڈسٹ مائٹس سے ہونے والی الرجی میں اس کی افادیت کے شواہد محدود ہیں۔

الرجی کی علامات کو کم کرنے کے لیے تیل (Essential oils) استعمال کرتے وقت بھی احتیاط لازم ہے کیونکہ ہر طرح کے تیل کی مارکیٹ میں آنے سے پہلے معمول کے مطابق جانچ نہیں کی جاتی۔

شدید الرجی کی صورت میں فوری طبی امداد ضروری

اینافائلیکسس (Anaphylaxis) الرجی کی ایسی قسم ہے جس میں سانس لینے میں دشواری، سینے میں جکڑن یا درد، بلڈ پریشر میں تبدیلی، چکر آنا، بے ہوشی، جلد پر دانے اور قے جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔

ایسی علامات سامنے آنے پر فوری طور پر ہنگامی طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کیفیت کا علاج گھریلو ٹوٹکوں سے کرنے کی کوشش خطرناک ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر الرجی کی علامات کو کم کرنے کے لیے گھر کی ہوا صاف رکھنا اور مناسب احتیاط اختیار کرنا مددگار ہوسکتا ہے لیکن قدرتی اجزاء کی افادیت ہر شخص میں مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے الرجی کی مستقل یا شدید علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔