عمران خان نے پہلے علیحدگی کی تجویز دی، میں ایسا کبھی نہ کرتی، اونتیکا کا انکشاف

اونتیکا ملک نے عمران خان کے ساتھ اپنی شادی کے خاتمے پر کھل کر بات کی، ان کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے عمران خان نے ہی کچھ وقت کے لیے ایک دوسرے سے الگ رہنے کی تجویز دی تھی۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں نے چھ ماہ کی علیحدگی کے بعد بالآخر طلاق لینے کا باہمی فیصلہ کیا، تاہم اونتیکا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے 18 سالہ تعلق کو ناکامی کے طور پر نہیں دیکھتیں۔

سوہا علی خان کے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے اونتیکا نے بتایا کہ جب ان کا تعلق شروع ہوا تو وہ دونوں کتنے کم عمر تھے، انہوں نے ایک دوسرے سے کیا توقعات وابستہ کر رکھی تھیں اور کس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ان کے رشتے میں تناؤ بڑھتا گیا؟ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جب ان کی شادی ٹوٹنے کے قریب پہنچی تو وہ اور عمران دونوں ایک دوسرے کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کرنے لگے تھے۔

اونتیکا کی ملاقات عمران خان سے اس وقت ہوئی تھی جب ان کی عمر 19 سال تھی۔ دونوں نے 2011 میں شادی کرلی اور ان کے ہاں بیٹی ایمارا کی پیدائش ہوئی۔

گفتگو کے دوران اوانتیکا سے پوچھا گیا کہ سب سے پہلے علیحدگی کا خیال کس نے پیش کیا تھا تو انہوں نے فوراً عمران خان کا نام لیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل میں یہ فیصلہ اسی کا تھا۔ میں ایسا کبھی نہ کرتی۔ شاید یہ میرے اپنے لیے نقصان دہ ہوتا، لیکن میں ایسا کبھی نہ کرتی۔

اونتیکا نے وضاحت کی کہ ابتدا میں عمران چاہتے تھے کہ وہ دونوں کچھ وقت کے لیے ایک دوسرے سے الگ رہیں۔ چھ ماہ بعد دونوں نے باہمی رضامندی سے فیصلہ کیا کہ طلاق ہی آگے بڑھنے کا مناسب راستہ ہے۔

اونتیکا نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جب انہوں نے یہ رشتہ شروع کیا تو ان کے اندر جذباتی الجھنیں اور ماضی کے کچھ ایسے اثرات موجود تھے جنہیں وہ خود بھی پوری طرح سمجھ نہیں پائی تھیں۔

اونتیکا نے مزید کہا کہ ان کی طلاق کسی ایک بڑے جھگڑے یا اچانک پیش آنے والے واقعے کا نتیجہ نہیں تھی۔