ساؤتھ فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار سی جوزف وجے نے اپنے کیریئر کے عروج پر فلمی دنیا کو خیرباد کہہ دیا اور اب تامل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ ہیں۔
ان کی ساتھی اداکارہ سمانتھا روتھ پرابھو اس وقت سیلیبریٹی ماسٹر شیف تامل کی میزبانی کر رہی ہیں۔ شو کے دوران اداکارہ نے ان کی بھرپور تعریف کی۔
جب ان سے ان کے پسندیدہ ساتھی اداکار کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے وجے کو اپنا ’لکی چارم‘ قرار دیا اور ایک محنتی انسان ہونے پر ان کی تعریف کی۔
سمانتھا کا کہنا ہے کہ وجے کے لیے ان کی پسندیدگی سب کو معلوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ میرے لیے خوش قسمتی کی علامت ہیں۔ میں نے ان کے ساتھ تین سپر ہٹ فلموں میں کام کیا ہے۔
ان فلموں میں کَتھی (2014)، تھیری (2016) اور مرسل (2017) شامل ہیں۔ یہ تینوں فلمیں تجارتی اعتبار سے کامیاب رہیں اور دنیا بھر میں 100 کروڑ بھارتی روپے سے زیادہ کا کاروبار کیا، جبکہ مرسل نے 250 کروڑ بھارتی روپے سے بھی زیادہ کمائی کی۔
سمانتھا نے فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد وجے کے سیاسی سفر کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک انسان کی حیثیت سے وہ دوسروں کے لیے باعثِ تحریک ہیں۔ کروڑوں مداح ہونے کے باوجود رہنما بننے اور حکمرانی کی ذمہ داری سنبھالنے کا انتخاب کرنا، خاموشی، یکسوئی اور پردے کے پیچھے انتہائی محنت سے کام کرنا، یہ سب قابلِ تعریف ہے۔
وجے نے 1984 میں فلم ویتری کے ذریعے بطور چائلڈ آرٹسٹ پردہ سیمیں پر قدم رکھا تھا۔ اس فلم کی ہدایت کاری ان کے والد ایس اے چندر شیکھر نے کی تھی۔
بطور مرکزی اداکار ان کی پہلی فلم نالایا تھیروپو تھی، جو 1992 میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم کی ہدایت کاری بھی ان کے والد نے کی، جبکہ ان کی والدہ شوبا نے اسے پروڈیوس کیا تھا۔
ان کی آخری فلم جنا نایگن تھی، اسے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کی جانب سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر یہ فلم جولائی میں سنیما گھروں کی زینت بنی اور ناقدین کی جانب سے ملے جلے ردِعمل کے باوجود باکس آفس پر اچھی کارکردگی دکھائی۔
سمانتھا کو آخری بار فلم ما انٹی بنگارم میں دیکھا گیا تھا۔ ان کے ہاں جلد پہلے بچے کی آمد متوقع ہے۔