عامر خان کس پچھتاوے کا ذکر کر کے رو پڑے

عامر خان—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان سنگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے دوران اپنی زندگی کے ایک بڑے پچھتاوے کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔

61 سالہ اداکار کا کہنا ہے کہ میری زندگی کا سب سے مشکل لمحہ کسی فلم کی ناکامی نہیں، بلکہ کورونا کی وباء کے دوران ہونے والا یہ احساس تھا کہ کام میں حد سے زیادہ مصروف رہنے کے باعث میں اپنے بچوں اور عزیزوں کے ساتھ قیمتی وقت نہیں گزار سکا۔

سنگاپور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں عامر خان کو ہانگ کانگ کے ہدایت کار پیٹر چان ہو سن نے اسکرین آئیکون ایوارڈ دیا۔

اس موقع پر ان سے کیریئر کے مشکل ترین دور کے بارے میں سوال کیا گیا۔

فلم ’دنگل‘ کے اداکار نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کورونا کے لاک ڈاؤن کے دوران جب میں نے اپنی زندگی پر غور کیا تو احساس ہوا کہ میری زندگی کے تقریباً 30 سال گزر چکے ہیں۔

عامر خان نے کہا کہ 1 یا 2 سال، حتیٰ کہ 5 سال تک اپنے کام میں جنون کی حد تک مصروف رہنا سمجھ میں آتا ہے، لیکن اگر یہ سلسلہ 30 سال تک جاری رہے تو انسان اپنے رشتے کھو دیتا ہے، بچے بڑے ہو کر بالغ ہو جاتے ہیں اور انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ وقت نہیں گزار سکا۔

یہ کہتے ہوئے عامر خان کچھ دیر کے لیے رک گئے، اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے، حاضرین نے تالیاں بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کی، جس پر اداکار نے ان سے معذرت بھی کی۔

خود کو سنبھالنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ اس احساس نے مجھے اپنی زندگی میں تبدیلی لانے پر آمادہ کیا، گزشتہ 4 برس سے میں جان بوجھ کر اپنے خاندان اور قریبی دوستوں کے لیے وقت نکال رہا ہوں۔

عامر خان نے کہا کہ میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ احساس 56 سال کی عمر میں ہو گیا، نہ کہ 86 سال کی عمر میں، جب شاید بہت دیر ہو چکی ہوتی اور کچھ بدلنا ممکن نہ رہتا۔

عامر خان نے آخری بار 9 سال قبل فلم ’سیکرٹ سپر اسٹار‘ کے ساتھ اس فیسٹیول میں شرکت کی تھی۔

رواں سال ان کی مشہور فلم ’لگان‘ کی ریلیز کے 25 سال مکمل ہونے پر اس کی خصوصی نمائش بھی فیسٹیول کے پروگرام کا حصہ ہے۔