بالی ووڈ اداکار سلمان خان 18 اکتوبر کو ممبئی میں ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کے بعد پہلی بار 22 اکتوبر کو عوامی سطح پر نظر آئے۔
اداکار نے ممبئی میں آئیفا کی پریس کانفرنس میں شرکت کی، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
پریس کانفرنس میں کرینہ کپور، شاہد کپور، ورون دھون، رشمیکا مندانا، علی فضل، پنکج ترپاٹھی اور ابھیشیک بنرجی سمیت دیگر فنکار بھی شریک ہوئے۔
سیکیورٹی خدشات کے باوجود سلمان خان اپنے روایتی بے تکلف انداز میں دکھائی دیے اور آئیفا کی میزبانی سے متعلق دلچسپ جملوں کے ذریعے شرکاء کو محظوظ کیا۔
تقریب کے میزبان نے سلمان خان سے پوچھا کہ اگر آئیفا پر فلم بنائی جائے تو وہ اس کا کیا نام رکھیں گے؟ اس پر سلمان خان نے نیویارک میں آئیفا منتظمین کی جانب سے فلم بنانے کی سابقہ کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ منصوبہ ناکام ہو گیا تھا اور اس کے بعد دوبارہ ایسی کوشش نہیں کی گئی۔
سلمان خان نے مزاحیہ انداز میں بتایا کہ اس فلم میں فنکاروں سے زبردستی کام کروایا گیا تھا، فنکاروں کو ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں لے جاکر بندوق کی نوک پر شوٹنگ کروائی گئی اور دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے کام نہ کیا تو اگلی بار انہیں آئیفا ایوارڈ نہیں دیا جائے گا۔
آئیفا 2027ء کی میزبانی کرنے والے ورون دھون کو مشورہ دیتے ہوئے سلمان خان نے مختصر جواب دیا کہ میزبانی مت کرنا۔
انہوں نے کہا کہ میزبانی میں تقریباً 6 گھنٹے لگ سکتے ہیں اور مشورہ دیا کہ میزبان کو صرف اپنا مخصوص رقص پیش کر کے چلے جانا چاہیے۔
دوسری جانب فائرنگ کے واقعے کے بعد سلمان خان کی سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے، ان کی رہائش گاہ کے باہر سیکیورٹی بڑھانے کے ساتھ بلٹ پروف کھڑکیوں کو بھی مزید بہتر بنایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تفتیش میں یہ امکان بھی سامنے آیا ہے کہ حملہ آوروں کا اصل ہدف سلمان خان ہو سکتے تھے۔
ذرائع کے مطابق مشتبہ افراد نے سلمان خان کی رہائش گاہ کی نگرانی کی تھی، تاہم وہاں سخت سیکیورٹی دیکھ کر منصوبہ ترک کر دیا تھا۔