کب تک صرف قسمت کے سہارے رہ سکتی ہوں؟ تاپسی پنو

—فائل فوٹو

 بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنو نے کہا ہے کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے میں نے برسوں مسلسل محنت کی، جہاں پروڈیوسرز میرے نام پر فلموں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاپسی پنو کی حالیہ فلم ’گندھاری‘ نیٹ فلکس کی غیر انگریزی فلموں کی فہرست میں 17 ممالک میں سرِ فہرست رہی، جس کے بعد خواتین مرکزی کرداروں پر مبنی فلموں میں ان کے کام پر ایک بار پھر توجہ دی جا رہی ہے۔

اپنے کیریئر کے سفر پر بات کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا ہے کہ میں کب تک صرف قسمت کے سہارے رہ سکتی ہوں؟ یہ فیصلہ صرف قسمت نہیں کر سکتی کہ مجھے کون سی فلم ملے گی اور نہ ہی میں اس بات کی محتاج رہنا چاہتی ہوں کہ فلم کے ہیرو مجھے اپنے ساتھ کام کرنے کی اجازت دینے پر آمادہ ہوں۔

تاپسی پنو نے کہا کہ فلم ’پنک‘ کے بعد سے میری کوشش رہی ہے کہ میں ایسی پوزیشن حاصل کروں جہاں پروڈیوسرز کو یقین ہو کہ اگر میں کسی فلم میں شامل ہوں تو اس منصوبے میں سرمایہ کاری کرنا فائدہ مند ہو گا۔

اداکارہ کے مطابق فلم ’پنک‘ نے مجھے کیریئر کا مقصد واضح کرنے میں مدد دی۔

 2016ء میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں امیتابھ بچن، کیرتی کلہاری اور آندریا تاریانگ نے بھی اہم کردار ادا کیے تھے۔

انیرودھا رائے کی ہدایت کاری میں بننے والی اس عدالتی ڈرامہ فلم میں خواتین کی رضامندی اور معاشرتی رویوں جیسے اہم موضوعات کو اجاگر کیا گیا تھا۔

 فلم میں تاپسی پنو نے مینال اروڑا کا مرکزی کردار ادا کیا تھا، جس نے انہیں مضبوط پیغام پر مبنی فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے کی جانب اہم پیش رفت فراہم کی۔