بھارت میں سوشل میڈیا پر گانوں کی مقبولیت سے اربوں روپے کے کاروباری مواقع پیدا ہو رہے ہیں تاہم اس کا مالی فائدہ زیادہ تر موسیقی کے بڑے پلیٹ فارمز اور مقبول تخلیق کاروں کو ملتا ہے۔
بھارتی میڈیا پر شائع کیے گئے میوزک انڈسٹری سے متعلق خصوصی تجزیاتی مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025ء کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں 20 سے 25 لاکھ ڈیجیٹل تخلیق کار ہیں لیکن صرف 8 سے 10 فیصد اپنی تخلیقات سے مؤثر آمدن حاصل کر پاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بہت سے چھوٹے تخلیق کار ماہانہ 18 ہزار روپے سے بھی کم کما رہے ہیں۔
بھارتی کمپنی ہوپر کے سربراہ گورو داغونکر کا کہنا ہے کہ بھارت میں 80 ہزار سے زیادہ برانڈز اور 5 لاکھ تخلیق کار تشہیری مواد تیار کرتے ہیں جبکہ اس کاروبار کے مواقع کا حجم تقریباً 1,500 کروڑ روپے ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی موسیقی کے حقوق کی باقاعدہ اجازت اور رائلٹی کے ذریعے فنکاروں کی آمدن بڑھائی جا سکتی ہے۔
ہوپر کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں 96 فیصد اسمارٹ فون صارفینِ موسیقی سنتے ہیں لیکن صرف 38 فیصد نے ہی کبھی موسیقی سننے کے لیے ادائیگی کی ہے۔
بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسیقی کے حقوق سے متعلق آگاہی کی کمی اور غیر قانونی تجارتی استعمال کے باعث ہر سال تقریباً 3,600 کروڑ روپے کی ممکنہ آمدن ضائع ہو جاتی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ماہرین کی رائے ہے کہ میوزک انڈسٹری میں فنکاروں کو ان کی تخلیقات کا مناسب معاوضہ دینے کے لیے حقوق کے تحفظ اور موسیقی کے بامعاوضہ استعمال کو فروغ دینا ہی اس مسئلے کا حل ہو سکتا ہے۔