آسکر ایوارڈ یافتہ فلمساز شرمین عبید چنائے کی کامیابی کا جشن

—تصویر بشکریہ رپورٹر

آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے کی فلم میکنگ کی کامیابی کا جشن برٹش قونصلیٹ میں منایا گیا۔

تقریب میں امریکا اور جاپان کے قونصل جنرلز نے خصوصی شرکت کی، جبکہ سپر اسٹار عائزہ خان، صنم سعید، مومل شیخ، ثناء جاوید، علی خان اور آمنہ الیاس توجہ کا مرکز بن گئیں۔

2 مرتبہ اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والی فلم ساز شرمین عبید چنائے نے کراچی میں پٹاخہ پکچرز کے 5 سال مکمل ہونے کی خوشی میں ایک تقریب منعقد کی۔

 پٹاخہ پکچرز، ایس او سی فلمز کا ایک ایسا قدم ہے، جس کا مقصد پاکستان میں دستاویزی فلم سازی کی اگلی نسل کو پروان چڑھانا ہے۔ 

تقریب میں 2026ء کے لیے فلم سازی کے رہنمائی اور مالی معاونت کے پروگرام ’کلیم دی فریم‘ کے لیے منتخب ہونے والی 8 خواتین فلم سازوں کو بھی نمایاں کیا گیا۔

2022ء میں آغاز کے بعد سے پٹاخہ پکچرز 76 ابھرتے ہوئے فلم سازوں کی معاونت کر چکا ہے، جن کے کام نے مجموعی طور پر 22 سے زائد ایوارڈز حاصل کیے اور دنیا بھر کے 100 سے زیادہ فلمی میلوں میں نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔

برٹش کونسل اور اسکاٹش ڈاکیومنٹری انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے پیش کیا جانے والا ’کلیم دی فریم‘ اس پروگرام کا آٹھواں مرحلہ ہے۔

 اس میں پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی 8 خواتین فلم سازوں کو 4 تخلیقی جوڑیوں میں شامل کیا گیا۔

اس موقع پر شرمین عبید چنائے نے کہا کہ پٹاخہ پکچرز کے 5 سال نے ہمارے ایک بنیادی یقین کو مزید مضبوط کیا ہے، صلاحیت ہر جگہ موجود ہوتی ہے، لیکن مواقع ہر کسی کو میسر نہیں ہوتے، برٹش کونسل پاکستان اور اسکاٹش ڈاکیومنٹری انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مل کر ہم نے دیکھا ہے کہ مالی معاونت، رہنمائی اور تخلیقی آزادی خواتین فلم سازوں کے سفر کو کس طرح بدل سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ایوارڈ یافتہ سابق شرکاء سے لے کر ’کلیم دی فریم‘ کے نئے ساتھیوں تک، ان کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ابھرتی ہوئی آوازوں پر سرمایہ کاری کیوں اہم ہے، اب ہمارا مقصد پٹاخہ پکچرز کو ایک ایسے مستقل پلیٹ فارم کے طور پر قائم کرنا ہے جہاں کہانی سنانے والوں کی اگلی نسل سیکھ سکے اور مل کر کام کر سکے۔

5 سالہ جشن کے موقع پر پٹاخہ پکچرز کے سفر کا جائزہ بھی لیا گیا، کہ کس طرح یہ فلم سازی میں رہنمائی فراہم کرتے ہوئے پاکستان بھر کے کہانی سنانے والوں کی ایک وسیع ہوتی ہوئی برادری بن گیا ہے، ساتھ ہی اگلی نسل کے فلم سازوں کو بھی اجاگر کیا گیا، مختلف مراحل کے دوران پروگرام کے شرکاء کو مالی معاونت، بین الاقوامی رہنمائی، فلم سازی میں عملی مدد اور اپنی اپنی برادریوں سے جڑی کہانیاں تخلیق کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔

برٹش کونسل پاکستان کی آرٹس ڈائریکٹر لیلیٰ جمیل نے کہا ہے کہ میرے نزدیک ’کلیم دی فریم‘ جیسے منصوبے کی اہمیت صرف ان فلموں کے لیے نہیں جو اس کے ذریعے تخلیق ہوتی ہیں، بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ کن لوگوں کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور انہیں سنانے کا موقع کن لوگوں کو ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نہ تو صلاحیتوں کی کمی ہے اور نہ ہی ایسی کہانیوں کی جنہیں دنیا کے ساتھ بانٹا جانا چاہیے، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ مزید لوگوں کی آوازوں کو سننے کے لیے جگہ، معاونت اور مواقع فراہم کیے جائیں، پٹاخہ پکچرز، اسکاٹش ڈاکیومنٹری انسٹی ٹیوٹ اور برٹش کونسل کو ایک ساتھ لا کر ہم خواتین فلم سازوں کو ایسی کہانیاں تخلیق کرنے میں مدد دے رہے ہیں جو ہمارے تجربات اور ہماری دنیا کے تنوع کی عکاسی کرتی ہیں، اس طرح ہم تخلیقی شعبے کو زیادہ جامع بناتے اور فلم کی طاقت کے ذریعے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بامعنی روابط بھی قائم کرتے ہیں۔