سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ گرم کمرے میں سونے سے بالخصوص عمر رسیدہ افراد میں دل کی کارکردگی میں ممکنہ طور پر خطرناک پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
آسٹریلیا میں معمر افراد پر گرمیوں کے موسم میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق جب رات کے وقت بیڈ روم کا درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ جاتا ہے تو ان کے خودکار اعصابی نظام میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ یہ اعصابی نظام دل کی دھڑکن اور سانس لینے جیسے غیر ارادی افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ہر رات پیدا ہونے والا یہ دباؤ حساس افراد خصوصاً بزرگوں میں دل کے دورے اور فالج جیسے امراض کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ تاہم تازہ ترین تحقیق کے مطابق کمرے کا درجہ حرارت 24 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے سے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
جب جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے خون کی شریانیں پھیلتی ہیں اور دل کو تیزی سے خون پمپ کرنے کے ساتھ بلڈ پریشر برقرار رکھنے کی کوشش کرنا پڑتی ہے تو دل پر نمایاں دباؤ پڑتا ہے۔ معمر افراد یا پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا لوگوں کے لیے یہ صورتحال کئی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔
تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گرم راتوں میں اضافے سے دل اور دوران خون پر اس قسم کا دباؤ مستقبل میں ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق، معمر افراد میں نیند کے دوران دل کی صحت کے تحفظ کے لیے 24 ڈگری سینٹی گریڈ ایک اہم حد ثابت ہوئی۔ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ دل پر ممکنہ مضر اثرات کا خطرہ بھی بتدریج بڑھتا گیا۔