بیٹی کی طلاق پر والد کو شرمندگی کیوں محسوس ہونی چاہیے؟ زویا ناصر

زویا ناصر—فائل فوٹو 

پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکارہ زویا ناصر نے طلاق سے گزرنے والی خواتین کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ازدواجی رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ گہرے جذباتی کرب کا باعث بنتا ہے، اس لیے خاندان اور معاشرے کو خواتین کو شرمندہ کرنے کے بجائے ان کا ساتھ دینا چاہیے۔

طلاق کے موضوع پر گفتگو کے دوران زویا ناصر نے کہا کہ شادی ختم کرنے کا فیصلہ کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔

انہوں نے طلاق کو اپنی ذات کا ایک حصہ کھو دینے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تجربے سے سنبھلنا بھی اتنا ہی مشکل ہو سکتا ہے، خواتین اتنا بڑا فیصلہ کسی معمولی وجہ سے نہیں کرتیں، بلکہ بعض اوقات انہیں مشکل حالات سے گزرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچنا پڑتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ بیٹی کی شادی ختم ہونے پر والد کو شرمندگی کیوں محسوس ہونی چاہیے؟ خاندانوں کو خواتین کے فیصلوں پر تنقید کرنے کے بجائے ان کی حمایت کرنی چاہیے۔

اداکارہ نے کہا کہ طلاق کے بعد خواتین کو جذباتی طور پر سنبھلنے اور اپنی زندگی دوبارہ ترتیب دینے کے لیے مناسب وقت دیا جانا چاہیے، اگر کوئی خاتون خود کو سنبھالنے اور زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کے لیے 3 ماہ کا وقفہ لینا چاہتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

انہوں نے کہا کہ والدین کو ایسے فیصلے کو منفی نظر سے دیکھنے کے بجائے اپنی بیٹی کی ہمت کو سراہنا چاہیے کہ اس نے رشتہ ختم ہونے کی حقیقت کو تسلیم کیا اور اپنے مستقبل کی ذمے داری اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

زویا ناصر اس سے قبل اس معاملے پر اپنے ذاتی تجربات بھی بیان کر چکی ہیں، انہوں نے ماضی میں انکشاف کیا تھا کہ میری شادی 19 سال کی عمر میں ہوئی تھی، تاہم ازدواجی رشتے کو کامیاب بنانے کی کوششوں کے باوجود طلاق ہو گئی تھی۔

اداکارہ اس کے بعد پیش آنے والے سماجی دباؤ پر بھی گفتگو کر چکی ہیں اور انہوں نے اس مشکل دور میں اپنے خاندان کی حمایت کو اہم قرار دیا۔