5 ہزار سے زائد بچوں کو چھ ہفتوں کیلئے سوشل میڈیا سے دور رکھنے کا فیصلہ

بچوں کی ذہنی صحت کے بارے میں ایک بڑے مشاہدے کے سلسلہ میں برطانیہ میں 5 ہزار سے زائد بچوں کو چھ ہفتوں کیلئے سوشل میڈیا سے دور رکھنے یا انتہائی محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بریڈفورڈ کے 12مختلف تعلیمی اداروں میں ہونیوالی ایک تحقیق کا بنیادی مقصد اس بات کا بغور جائز ہ لینا ہے کہ سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے سے بچوں اور نو عمر افراد کے رویوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پانچ ہزار سے زائد طالبعلموں کو اس تحقیق میں شامل کیا جائے گا، اگلے چھ ہفتوں کے دور ان 12سے 15سال کی عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی یا انکی کڑی نگرانی کا سلسلہ شروع کیا جائیگا۔

بعض طالبعلموں کو دن میں دو گھنٹے کیلئے 10منتخب ایپس تک رسائی دی جائیگی، بعض کو معمول کے مطابق آگے بڑھنے کی اجازت ہوگی تاہم انہیں بھی ٹریک کیا جائیگا۔

فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاپ، ایکس، ریڈ اٹ و دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی ان ایپس میں شامل ہوں گے۔

طلباء شروع اور آخر میں مختصر سوالنامے کو پرکریں گے تاکہ تحقیق میں وہ یہ بتا سکیں کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں جس میں اضطراب، نیند، جسمانی تصویر اور اسکول کی زندگی جیسی چیزوں کا احاطہ کیا جائے گا۔

پابندیوں کو ایک بٹن دبانے پر ختم کیا جا سکتا ہے مگر قواعدو ضوابط پر قائم رہنے والوں کو پوائنٹس دیے جائیں گے۔