برطانیہ میں تقریباً 20 لاکھ سے زائد ایسے افراد جو صحت کی مراعات سے استفادہ کر رہے ہیں مستقبل میں اہلیت کا حق کھو سکتے ہیں۔ دو تہائی سے زیادہ ایسے افراد جو بیماری کی وجہ سے مراعات کے پیسے حاصل کر رہے ہیں انکی طبی کیفیت جاننے کے لیے دوبارہ تشخیص کرائی جا سکتی ہے۔
ورک اینڈ پنشن سیکریٹری پیٹ میک فیڈن نے تسلیم کیا کہ لوگوں کی بڑی تعداد ٹیکس دہندگان کے پیسے حاصل کر رہے ہیں اور فلاحی نظام میں داخل ہو کر مراعات لیتے ہیں۔
تاہم میڈیا کی تحقیقات میں اس امر کا انکشاف ہوا ہے کہ بغیر کسی صحت مسائل اور جانچ کے ایک شخص 16سال تک مسلسل پیسے حاصل کرتا رہا ہے۔
دوسری طرف باور کیا جا رہا ہے کہ رواں ماہ کے آخر میں بجٹ میں رقم واپس لینے کی کوشش پر میک فیڈن اور چانسلر جان ہیلی کو لیبر ایم پیز کی جانب سے زبردست پش بیک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
میک فیڈن کا کہنا ہے کہ انکے پاس ایک ایسا نظام موجود ہے جو اہلیت جانچنے کیلئے موثر نتائج دے سکتا ہے۔
وزراء فلاحی اصلاحات تیار کر رہے ہیں جن میں ممکنہ طور پر 25 سال سے کم عمر افراد سے یونیورسل کریڈٹ کے صحت کے عنصر کو ہٹانا شامل ہے۔
ماہانہ 217 پاؤنڈ کی نقد ادائیگیوں کے بجائے کم سنگین طبی مسائل کا شکار افراد کو ملازمت حاصل کرنے کے لیے بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی، جس میں سبسڈی والی ملازمتیں اور ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مدد شامل ہوگی۔