برطانیہ میں 2023 میں والد اور سوتیلی ماں کے ہاتھوں قتل ہونیوالی 10سالہ سارہ شریف کے قتل کے کئی برسوں کے بعد مقتولہ کے دادا پاکستان میں طویل قانونی جنگ لڑنے کے بعد فتح سے ہمکنار ہو گئے۔
پاکستانی عدالت نے سارہ شریف کے دادا کو اسکے دیگر بہن بھائیو ں کی گارڈین شپ دیدی، چار سے 16سال کی عمر کے چار بچے پاکستان میں ہی قیام پذیر ہیں۔
سارہ شریف کے داد ا محمد شریف نے برطانوی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تین سال کی طویل قانونی جنگ لڑنے کے بعد بچوں کی سرپرستی ملنے پر انتہائی خوشی ہے۔
انھوں نے کہا بچے صحت مند رہیں گے اور انہیں اچھی تعلیم میسر آئیگی۔ انہیں بہترین تعلیم وتربیت اور دیکھ بھال کی فراہمی میری اولین ذمہ داری ہے۔
سب سے بڑے بچے نے دادا کو گارڈین بنائے جانے پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ مذکورہ بچوں کو ابتدائی طور پر پاکستان آنے کے بعد سرکاری دیکھ بھال میں رکھا گیا تھا۔
سارہ کے والد عرفان شریف اور سوتیلی ماں بینش بتول کو سارہ کے قتل کے جرم میں 33 سے 40 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ جبکہ چچا فیصل ملک کو 16سزا کی سزا ہوئی تھی۔