سونالی باندرے نے کینسر سے جنگ کا دردناک تجربہ بیان کر دیا

—فائل فوٹو

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ سونالی باندرے نے کینسر کے خلاف اپنی جدوجہد کے تقریباً ایک دہائی بعد بیماری کے دوران پیش آنے والے تلخ تجربات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے کینسر کو شکست دینے کے بجائے اپنے جسم کو سمجھنے اور اس تجربے سے سیکھنے پر توجہ دی۔

51 سالہ اداکارہ نے مادھوری ڈکشٹ کے نئے پروگرام کی پہلی قسط میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے کینسر میں مبتلا ہونے اور اس دوران پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں بتایا۔

پروگرام کے دوران مادھوری ڈکشٹ نے سونالی باندرے کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ کینسر پر قابو پانے کے بعد ان کی شخصیت کا ایک مضبوط پہلو سامنے آیا ہے۔

اس پر سونالی باندرے نے کہا کہ عام طور پر کینسر سے صحت یاب ہونے کو بیماری کے خلاف جنگ جیتنے سے تعبیر کیا جاتا ہے، لیکن میرا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور میں اس تجربے سے کیا سیکھ سکتی ہوں؟

اداکارہ کے مطابق جب ہم کسی چیز پر قابو پانے کی بات کرتے ہیں تو اس میں لڑائی اور منفی سوچ کا تصور شامل ہو جاتا ہے، حالانکہ جسم ہمارا اپنا ہے اور کینسر کے خلیے بھی ہمارے ہی جسم کے خلیے ہوتے ہیں، ایسے میں ہم خود اپنے آپ سے کیسے لڑ سکتے ہیں؟

سونالی باندرے نے کہا ہے کہ میں نے اپنے جسم کو محبت اور شفقت سے قبول کرنے کی کوشش کی، اگرچہ اس جسم سے محبت کرنا آسان نہیں تھا جو مجھے شدید تکلیف دے رہا تھا، یہی سوچ میرے لیے مددگار ثابت ہوئی۔

واضح رہے کہ سونالی باندرے کو جولائی 2018ء میں اسٹیج فور میٹاسٹیٹک کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

میٹاسٹیٹک کینسر کیا ہے؟

میٹاسٹیٹک کینسر ایسی کیفیت ہے جس میں کینسر کے خلیے جسم کے اس حصے سے جہاں بیماری شروع ہوئی ہو، نکل کر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتے ہیں۔

میٹاسٹیٹک کینسر کی علامات

طبی ادارے کلیولینڈ کلینک کے مطابق اس کی ممکنہ علامات میں شدید تھکاوٹ، رات کے وقت پسینہ آنا اور بغیر کسی واضح وجہ کے وزن میں کمی شامل ہیں، اس کے علاوہ علامات کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ کینسر جسم کے کس حصے تک پھیلا ہے۔

میٹاسٹیٹک کینسر کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

اس کی تشخیص کے لیے مختلف طبی ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جن میں سی ٹی اسکین، ایم آر آئی، پی ای ٹی اسکین، ہڈیوں کے اسکین، خون کے ٹیسٹ اور متاثرہ بافتوں کے نمونوں کی جانچ شامل ہو سکتی ہے۔