اداکار عامر خان کی بھانجی زین میری نے گرفتاری کے بعد جسم پر چوٹوں کے نشانات دکھا دیے

—تصاویر بشکریہ بھارتی میڈیا

بالی وڈ اداکار عامر خان کی بھانجی زین میری نے ممبئی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران پولیس حراست میں لیے جانے کے بعد اپنے جسم پر چوٹوں کے نشانات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دی۔

زین میری نے اپنی انسٹاگرام ریل میں بازو، انگلیوں اور ٹانگوں پر موجود نشانات دکھائے۔

اداکارہ نے ویڈیو کے ساتھ لکھا ہے کہ میں انٹرنیٹ پر ریاستی اقدامات کو بے نقاب کرتی ہوں، ہمیں اتنا خوف زدہ نہ کرو کہ ہمارے اندر خوف باقی ہی نہ رہے۔

وہ ہفتے کے روز ممبئی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور مبینہ طور پر ووٹر فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے معاملے پر ووٹ دینے کا حق بحال کرنے کے مطالبے کے لیے ہونے والے احتجاج میں شریک تھیں۔

زین میری نے اس سے قبل اداکار عمران خان اور لیکھا واشنگٹن کے ہمراہ حراست میں لیے جانے کی ویڈیوز بھی شیئر کی تھیں۔

 تینوں اداکاروں کو ہفتے کے روز ممبئی کے آگست کرانتی میدان میں احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آنے کے بعد دیکھا گیا کہ پولیس تینوں اداکاروں کو ایک وین میں لے جا رہی ہے، چند گھنٹوں بعد رہائی ملنے پر انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات بیان کیے۔

عمران خان نے ایک الگ ویڈیو میں بتایا کہ مجھے حراست میں لیے جانے کی وجہ معلوم نہیں تھی، پولیس اہلکاروں نے سڑک سے مجھے اور دیگر افراد کو پکڑ کر وین میں بیٹھنے کا کہا۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ پولیس وین میں مجھے تقریباً 2 گھنٹے تک مختلف مقامات پر گھمایا گیا، جس کے بعد ایک نامعلوم مقام پر اتار دیا گیا۔

عمران خان سمیت 400 سے زائد افراد کو ممبئی پولیس نے آگست کرانتی میدان اور قریبی علاقے نانا چوک میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کے دوران حراست میں لیا تھا۔

یہ احتجاج مہاتما گاندھی کے پڑپوتے توشار گاندھی کی اپیل پر کیا گیا تھا، جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا، احتجاج کا تعلق انتخابی فہرستوں پر نظرِ ثانی کے خصوصی عمل اور ووٹر فہرستوں میں مبینہ رد و بدل کے خدشات سے تھا۔

توشار گاندھی کو بھی احتجاج کے مقام کی جانب جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا، تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے انتخابی فہرستوں پر نظرِ ثانی اور ووٹر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 سے متعلق تبدیلیوں کے خلاف نئی دہلی کے جنتر منتر پر بھی احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے اور ان کے ساتھی سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو ہفتے کے روز نئی دہلی پہنچنے پر حراست میں لے لیا گیا، تحریک نے جنتر منتر پر ہزاروں افراد کو جمع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، اپوزیشن سیاست دانوں، صحافیوں اور وکلاء سمیت 2 ہزار سے زائد افراد کو بھی پولیس نے حراست میں لیا ہے۔