عمران خان نے پُرتشدد فلموں میں کام کرنے سے کیوں انکار کیا؟

عمران خان—فائل فوٹو

بالی ووڈ اداکار عمران خان نے واضح کیا ہے کہ میں ایسی فلم میں کبھی کام نہیں کرنا چاہوں گا جس میں تشدد کو قابلِ ستائش بنا کر پیش کیا جائے۔

اداکار کے مطابق آج کل فلموں میں تشدد کی عکاسی کے انداز سے مجھے اختلاف ہے، تاہم سنیما میں تشدد کو پیش کرنے کا ایک مناسب طریقہ بھی موجود ہے۔

فلم کٹی بٹی کے اداکار نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ میں ایسا کردار ادا نہیں کرنا چاہتا جو مسائل حل کرنے کے لیے بندوق کا سہارا لیتا ہو، موجودہ دور کی ایکشن فلموں میں تشدد کو جس انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، وہ مجھے بے چین کر دیتا ہے۔

43 سالہ اداکار نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ آج عالمی سطح پر سنیما کس سمت میں جا رہا ہے، تشدد کو پُرکشش بنانے، اس کے گرد غیر معمولی کشش پیدا کرنے کا رجحان مجھے بے چین کرتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ میں ایکشن فلمیں دیکھتے ہوئے بڑا ہوا ہوں اور مجھے یہ فلمیں پسند رہی ہیں، تشدد کو پیش کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اخلاقیات کا معاملہ نہیں ہے، تشدد اور ایکشن دراصل سنیما کی اپنی ایک زبان ہیں، جب ہم اس زبان کے ذریعے کوئی بات بیان کرتے ہیں یا فلموں میں تشدد دکھاتے ہیں تو اسے پیش کرنے کا ایسا طریقہ ہونا چاہیے جس سے اس کی سنگینی اور نتائج کا احساس بھی ہو۔

واضح رہے کہ فلم دہلی بیلی کے اداکار عمران خان نے آخری بار 2015ء میں کنگنا رناوت کے ساتھ ایک فلم میں کام کیا تھا۔

ایک دہائی سے زائد عرصے کے وقفے کے بعد اب وہ نیٹ فلکس کی فلم ادھورے ہم، ادھورے تم کے ذریعے واپسی کے لیے تیار ہیں، جس میں ان کے ساتھ بھومی پیڈنیکر بھی نظر آئیں گی، توقع ہے کہ فلم 18 دسمبر کو ریلیز کی جائے گی۔