مائیگرین اور عام سر درد میں کیا فرق ہے؟ اسے کیسے پہچانیں؟

—فائل فوٹو

سر درد اور مائیگرین دونوں میں سر میں درد ہو سکتا ہے، تاہم یہ دونوں ایک جیسی کیفیت نہیں ہیں۔

 عام سر درد ایک علامت ہے، جبکہ مائیگرین اعصابی نظام سے متعلق ایک طبی کیفیت ہے، جس میں بار بار سر درد کے دورے پڑ سکتے ہیں، اس کے ساتھ متلی، قے اور روشنی یا آواز سے حساسیت جیسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق درد کی نوعیت، دورانیے اور اس کے ساتھ ظاہر ہونے والی علامات کو سمجھنے سے عام سر درد اور مائیگرین میں فرق کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

درد سر کے کس حصے میں ہوتا ہے؟

عام طور پر تناؤ کی وجہ سے ہونے والا سر درد پورے سر میں دباؤ، کھنچاؤ یا ہلکے درد کی صورت میں محسوس ہو سکتا ہے اور سر کے دونوں جانب بھی ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹرز مطابق مائیگرین میں درد عموماً دھڑکن کی طرح محسوس ہوتا ہے اور اکثر سر کے ایک جانب ہوتا ہے، تاہم بعض افراد کے سر کے دونوں جانب بھی درد ہو سکتا ہے۔

سر کے ایک جانب درد ہونا مائیگرین کی علامت ہو سکتا ہے، لیکن صرف اس بنیاد پر مائیگرین کی تشخیص نہیں کی جا سکتی۔

درد کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟

تناؤ کی وجہ سے ہونے والے سر درد میں ایسا محسوس ہو سکتا ہے جیسے سر کے گرد دباؤ پڑ رہا ہو یا کوئی چیز سر کو جکڑ رہی ہو۔

اس کے برعکس، مائیگرین کا درد درمیانے درجے سے شدید ہو سکتا ہے اور چلنے یا سیڑھیاں چڑھنے جیسی معمول کی جسمانی سرگرمیوں سے بھی بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیگرین صرف سر درد تک محدود نہیں، اس میں متلی اور قے بھی ہو سکتی ہے، جبکہ تیز روشنی اور بلند آواز برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

سر درد کے دوران اندھیرے اور خاموش کمرے میں لیٹنے کی خواہش مائیگرین کی جانب اشارہ کرسکتی ہے۔

سر درد اور مائیگرین کتنی دیر تک رہتے ہیں؟

تناؤ کی وجہ سے ہونے والا عام سر درد عموماً 30 منٹ سے کئی گھنٹوں تک رہ سکتا ہے۔

اس کے برعکس، مائیگرین کا دورہ زیادہ دیر تک جاری رہ سکتا ہے، علاج نہ ہونے کی صورت میں مائیگرین کا 1 دورہ 4 سے 72 گھنٹے تک برقرار رہ سکتا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق مائیگرین کے دوران درد کی شدت میں اتار چڑھاؤ بھی آ سکتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ پورے دورانیے میں درد ایک جیسا رہے۔

مائیگرین اورا کیا ہے؟

مائیگرین کے بعض مریضوں کو سر درد سے پہلے یا اس کے دوران مخصوص اعصابی علامات محسوس ہوتی ہیں، جنہیں اورا کہا جاتا ہے۔

ان علامات میں آنکھوں کے سامنے چمکتی روشنیاں دکھائی دینا، ٹیڑھی میڑھی لکیریں یا نظر کے بعض حصوں میں اندھیرا محسوس ہونا، ہاتھوں یا جسم کے کسی حصے میں سنسناہٹ یا بے حسی ہونا اور بولنے میں دشواری پیش آنا شامل ہیں۔

ڈاکٹر شرما کے مطابق ہر مائیگرین کے مریض کو اورا کی علامات محسوس نہیں ہوتیں، اس لیے ان علامات کی عدم موجودگی مائیگرین کو خارج نہیں کرتی۔

نظر میں تبدیلی یا دیگر اعصابی علامات کو خودباخود مائیگرین قرار نہیں دینا چاہیے، ان کی وجہ جاننے کے لیے طبی معائنہ ضروری ہو سکتا ہے۔

مائیگرین اور عام سر درد میں بنیادی فرق

عام سر درد میں عموماً دباؤ، کھنچاؤ یا ہلکا درد محسوس ہوتا ہے، جبکہ مائیگرین میں دھڑکن جیسا درد، متلی، روشنی، آواز سے حساسیت اور جسمانی سرگرمی سے درد میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم دونوں کی علامات ایک دوسرے سے مل سکتی ہیں، اس لیے صرف ایک علامت کی بنیاد پر خود تشخیص کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟

اگر سر درد بار بار ہو، شدید ہو، معمول کے سر درد سے اچانک مختلف محسوس ہو یا روزمرہ زندگی متاثر کرنے لگے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

ہر بار درد کش ادویات استعمال کرنے کے بجائے سر درد کی اصل وجہ معلوم کرنا اہم ہے۔

اگر اچانک زندگی کا شدید ترین سر درد شروع ہو، یا سر درد کے ساتھ جسم کے ایک جانب کمزوری، بولنے میں اچانک دشواری، بے ہوشی یا نئی اعصابی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں، ایسی علامات کو مائیگرین سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔