بالی ووڈ اداکار سنجے دت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے معاملے میں گرفتاری کے بعد اپنے والد سنیل دت کے ردعمل کو یاد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے ہتھکڑیاں لگائے جانے پر والد صدمے میں چلے گئے تھے۔
اداکار نے شیکھر سمن کے پروگرام ’شیکھر ٹونائٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جب پولیس نے مجھے ہتھکڑیاں لگائیں تو میرے والد کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا کہ آپ میرے بیٹے کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔
سنجے دت کے مطابق میں نے اپنے والد کو گلے لگایا اور تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ہتھکڑی لگانا قانونی کارروائی کا حصہ ہے، اس لیے آپ پریشان نہ ہوں تاہم، حقیقت میں میں خود اندر سے شدید تکلیف میں تھا، لیکن والد کے لیے مضبوط بننے کی کوشش کر رہا تھا۔
سنجے دت نے بتایا ہے کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران مجھے اس مشکل دور سے گزرنا پڑا، جو 24 سال تک جاری رہا۔
مارچ 1993ء میں ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کی تحقیقات کے دوران تفتیش کاروں نے سنجے دت کے کیس کو بھی ان دھماکوں سے جوڑا تھا۔
نومبر 2006ء میں خصوصی عدالت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے پر سنجے دت کو اسلحہ ایکٹ کے تحت مجرم قرار دیا، تاہم انہیں دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت عائد الزامات سے بری کر دیا گیا۔
اداکار کو اچھے طرزِ عمل کی بنیاد پر سزا میں رعایت ملنے کے بعد فروری 2016ء میں رہا کر دیا گیا تھا۔