برطاینہ میں ٹریکر مارگیجز کی طلب میں اضافہ، فکسڈ ڈیلز کی شرحِ سود بڑھ گئی

— فائل فوٹو

فکسڈ ریٹ مارگیجز کی شرحِ سود میں اضافے کے باعث ٹریکر مارگیجز کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ٹریکر مارگیج میں ماہانہ ادائیگیاں مرکزی بینک کے بیس ریٹ کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہیں۔

اس کے برعکس فکسڈ ریٹ ڈیلز میں قرض لینے والے ایک مقررہ مدت تک شرحِ سود میں تبدیلی سے محفوظ رہتے ہیں، تاہم حالیہ دنوں میں ان ڈیلز کی شرحِ سود بڑھنے کے بعد بہت سے خریدار ٹریکر آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ٹریکر مارگیجز بظاہر کم شرحِ سود کی وجہ سے پرکشش نظر آتے ہیں، لیکن یہ ’بے فکری کا سودا نہیں‘۔

اگر بیس ریٹ میں اضافہ ہوتا ہے تو قرض لینے والوں کی ماہانہ اقساط بھی بڑھ سکتی ہیں، جس سے گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔

مارگیج مشیروں کا کہنا ہے کہ قرض لینے والوں کو صرف موجودہ شرحِ سود دیکھ کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنی مالی استطاعت، آمدنی میں ممکنہ تبدیلی اور شرحِ سود میں اضافے کے خطرے کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ٹریکر مارگیج ان افراد کے لیے موزوں ہو سکتا ہے جو شرحِ سود میں اتار چڑھاؤ برداشت کرنے کی مالی گنجائش رکھتے ہوں اور مستقبل میں بیس ریٹ میں کمی کی توقع کر رہے ہوں، تاہم جو لوگ ماہانہ ادائیگیوں میں استحکام چاہتے ہیں، ان کے لیے فکسڈ ریٹ ڈیل اب بھی زیادہ مناسب انتخاب ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مارگیج کا انتخاب طویل مدتی مالی فیصلوں میں شامل ہوتا ہے، اس لیے کسی بھی ڈیل پر دستخط کرنے سے پہلے مختلف آپشنز کا موازنہ اور ماہر مشورہ حاصل کرنا ضروری ہے۔