خشک میوہ جات کے صحت پر حیرت انگیز اثرات

خشک میوہ جات کو ہمیشہ وزن بڑھانے والی غذا سمجھا جاتا رہا ہے، کیونکہ ان میں چکنائی اور کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں اور انہیں کھاتے ہوئے ہاتھ روکنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم ماڈل اور ماہر غذایت گیبریلا پیکاک اس تصور کو نہیں مانتیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ اپنی صحت بہتر بنانے کا ایک آسان اور فوری طریقہ چاہتے ہیں تو برازیل نٹس سے بہتر انتخاب شاید ہی کوئی ہو۔ یہ خشک میوہ جات صحت کے لیے حیرت انگیز فوائد رکھتے ہیں اور مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے، خلیات کو نقصان سے بچانے اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ 

انھوں نے کہا اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ برازیل نٹس ضروری معدنی جزو سیلینیم کے سب سے بھرپور غذائی ذرائع میں شمار ہوتے ہیں۔ 

برطانوی شاہی خاندان کی رکن اور سابق شہزادہ اینڈریو کی بیٹی شہزادی بیٹریس سمیت کئی معروف شخصیات کی غذائی ماہر گیبریلا پیکاک کے مطابق برازیل نٹس کا ایک اہم اور پسندیدہ فائدہ صحت مند بالوں کی نشوونما میں مدد دینا اور بالوں کو ٹوٹنے سے بچانے کی ممکنہ صلاحیت ہے۔

تاہم، فوائد کے حوالے سے برازیل نٹس ہی واحد انتخاب نہیں ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ناشتے میں 50 گرام اخروٹ کھانے سے نوجوان بالغ افراد یادداشت کے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ دیگر تحقیق میں بھی خشک میوہ جات کے استعمال کو ذیابیطس اور ڈپریشن کی کم شرح کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے استعمال سے تولیدی صلاحیت میں اضافے اور عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی کارکردگی بہتر رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

برطانیہ میں ایک عام شہری روزانہ اوسطاً صرف 6 گرام خشک میوہ جات کھاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدر بہت کم ہے اس وجہ سے لوگ اہم وٹامنز، معدنیات، صحت مند چکنائی اور پروٹین کی روزانہ درکار اضافی مقدار حاصل کرنے سے محروم رہ سکتے ہیں۔

یہ جاننے کے لیے کہ خشک میوہ جات کی کون سی اقسام سب سے زیادہ فوائد فراہم کرتی ہیں اور ہمیں روزانہ کتنی مقدار استعمال کرنی چاہیے۔ ماہرین کے مطابق بظاہر خشک میوہ جات کے استعمال میں احتیاط برتنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مٹھی بادام میں 150 سے زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں، جبکہ برازیل نٹس پودوں سے حاصل ہونے والی ان غذاؤں میں شامل ہیں جن میں چکنائی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

تاہم، تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خشک میوہ جات میں موجود کیلوریز کا جسم پر اثر ویسا نہیں ہوتا جیسا بسکٹ یا چپس جیسی کم غذائیت والی غذاؤں میں موجود کیلوریز کا ہوتا ہے۔

امریکی محکمہ زراعت کی تحقیق سے پتہ چلا کہ ہمارا جسم خشک میوہ جات میں موجود تمام چکنائی جذب نہیں کرتا۔ بادام اور اخروٹ میں موجود چکنائی سے حاصل ہونے والی تقریباً پانچویں حصے کی کیلوریز خون میں شامل ہی نہیں ہوتیں۔ 

ماہرین کے مطابق خشک میوہ جات میں غذائی اجزا کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، لیکن جسم ان میں موجود ہر کیلوری کو استعمال نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ وزن بڑھانے کے معاملے میں ان کا اثر دیگر غذاؤں جیسا نہیں ہوتا۔

خشک میوہ جات میں پروٹین، فائبر اور غیر سیر شدہ چکنائی کا منفرد امتزاج بھوک کو قابو میں رکھنے اور خون میں شکر کی سطح کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں کو بعد میں غیر ضروری اسنیکس کھانے کی خواہش نسبتاً کم محسوس ہوتی ہے۔

گزشتہ سال وزن کم کرنے سے متعلق مختلف تحقیق کے جائزے سے بھی یہ پتہ چلا کہ جن افراد نے اپنی غذا میں خشک میوہ جات شامل کیے، بعض صورتوں میں ان کا وزن ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ کم ہوا جنہوں نے خشک میوہ جات کا استعمال ترک کر دیا تھا۔