ویسٹ انڈیز نے دوسرے ٹی 20 میچ میں بھارت کو 6 وکٹوں سے ہرا کر 250 رنز کا ہدف 18.3 اوورز میں حاصل کر لیا جس کے بعد سابق بھارتی کپتان سنیل گواسکر نے بھارتی بولرز کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بھارت نے سنجو سیمسن کی بیٹنگ کی بدولت 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 249 رنز بنائے لیکن بھارتی بولرز اتنے بڑے مجموعے کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔
ویسٹ انڈیز نے کپتان شائی ہوپ کی 45 گیندوں پر سنچری اور شیرفین ردرفورڈ کے 37 گیندوں پر 84 رنز کی بدولت ہدف با آسانی حاصل کر لیا، دونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر 501 رنز بنائے۔
بھارتی ٹیم کی پرفارمنس سے سخت نالاں ہوتے ہوئے سنیل گواسکر نے کہا ہے کہ بھارتی بلے بازوں نے توقع سے زیادہ رنز بنائے، اس لیے شکست کا ذمے دار بیٹنگ کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ بولرز کی ناقص کارکردگی تھی جنہوں نے اپنی ذمے داری کے مطابق بولنگ نہیں کی، بولنگ کوچ کو اپنے بولرز سے کیا توقعات تھیں اور کیا بولرز نے ان توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کی، اس کا جواب کون دے گا؟
سابق بھارتی فاسٹ بولر ورون آرون نے بھی بولنگ کی حکمتِ عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کی ابتدائی 2 وکٹیں گرنے کے بعد بھارت کو فاسٹ بولرز سے دباؤ برقرار رکھنا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاور پلے کے چوتھے اوور میں اکشر پٹیل کو بولنگ دینا غیر ضروری تھا کیونکہ شائی ہوپ اور رومین پاؤل نئی گیند کے خلاف مشکلات کا شکار تھے، اکشر نے اس اوور میں 16 رنز دیے۔
دوسری جانب بھارتی کپتان شریاس ایر نے شکست کے بعد اپنے بیان میں ٹیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اوس کے باعث بولنگ کرنا مشکل ہو گیا تھا اور ایسی صورتِحال میں ہدف کا دفاع کرنے کے لیے مطلوبہ اسکور کا اندازہ لگانا آسان نہیں تھا، اسی لیے 249 رنز بنانے کے باوجود بھارتی بولرز ویسٹ انڈیز کی جارحانہ بیٹنگ کو روکنے میں ناکام رہے۔