غزہ میں جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی اسرائیلی فوج کی جانب سے پرتشدد کارروائیاں، حملے، شہادتیں اور امدادی پابندیاں جاری ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل، سیو دی چلڈرن، آکسفیم اور ناروے کی پناہ گزین کونسل سمیت 100 سے زائد عالمی تنظیموں نے غزہ کی صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
100 سے زائد عالمی تنظیموں کے مشترکہ بیان کے مطابق 10 اکتوبر 2025ء کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,471 فلسطینی شہید اور 5,189 زخمی ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023ء سے جاری جنگ میں مجموعی طور پر 74,254 فلسطینی جاں بحق اور 175,000 زخمی ہوئے جن میں کم از کم 21,000 بچے شامل ہیں۔
تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کے باعث اصل ہلاکتیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ امدادی سامان، ادویات، ایندھن اور تعمیرِ نو کے مواد کی قلت سے غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے، غزہ کے تمام 36 اسپتال بھی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہے۔
دوسری جانب تازہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز وسطی غزہ میں اسرائیلی فائرنگ اور گولہ باری سے کم از کم 1 فلسطینی شہید ہوا جبکہ خان یونس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
جمعرات کو بھی اسرائیلی حملوں میں 8 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل کو جواب دہ ٹھہرانے اور عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔