خواتین مردوں کے مقابلے میں جسم کے ہر حصے میں زیادہ درد محسوس کرتی ہیں: تحقیق میں انکشاف

—فائل فوٹو 

ایک بین الاقوامی تحقیق کے نتائج میں انکشاف ہوا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں جسم کے تمام 11 حصوں میں زیادہ درد محسوس کرتی ہیں، تحقیق میں سر درد، چہرے کے درد اور پیٹ کے درد میں خواتین اور مردوں کے درمیان نمایاں فرق پایا گیا۔

طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 118 ممالک کے 61 لاکھ سے زائد افراد کے فراہم کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا، تحقیق میں 5 سال سے لے کر 100 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

تحقیق کے مطابق خواتین میں مردوں کے مقابلے میں چہرے کے درد کی شکایت کا امکان 83 فیصد، سر درد کا 74 فیصد اور پیٹ کے درد کا 60 فیصد زیادہ پایا گیا۔

تحقیق کے اہم نتائج کے مطابق جسمانی درد کی شدت بڑھاپے کے بجائے عموماً درمیانی عمر میں زیادہ ہوتی ہے، زیادہ تر جسمانی حصوں میں درد 55 سال کی عمر سے پہلے تیزی سے بڑھتا ہے، درمیانی یا نسبتاً بڑی عمر میں عروج پر پہنچتا ہے اور پھر بڑھاپے میں کم ہونے لگتا ہے۔

خواتین کے جسم کے مختلف حصوں میں درد کی شدت اور عمر کے ساتھ اس میں تبدیلی مختلف ہوتی ہے، پیٹ کا درد عموماً 23 سال اور سر درد 34 سال کی عمر میں عروج پر ہوتا ہے جبکہ گردن، کندھوں اور کہنیوں کے جوڑوں کا درد تقریباً 59 سے 62 سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے۔

اس کے برعکس کولہوں، گھٹنوں اور کمر کا درد 75 سال یا اس سے زائد عمر تک بڑھ سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک میں عمر رسیدہ افراد کو زیادہ جسمانی درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان ممالک میں کمر کے نچلے حصے کا درد امیر ممالک کے مقابلے میں تقریباً دگنا پایا گیا۔

محققین کے مطابق سخت جسمانی مشقت، ناقص غذا، متعدی بیماریاں اور طبی سہولتوں کی کمی اس کی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔

دنیا بھر میں کمر کا درد سب سے عام مسئلہ پایا گیا جو تقریباً 40 فیصد افراد کو متاثر کرتا ہے جبکہ چہرے کا درد سب سے کم عام تھا اور تقریباً 2 فیصد افراد میں پایا گیا۔

تحقیق کے مطابق موٹاپا بھی جوڑوں کے درد میں اضافے کا اہم سبب ہے، موٹاپے سے خصوصاً پاؤں، ٹخنوں اور گھٹنوں میں درد کا خطرہ تقریباً دگنا ہو جاتا ہے جبکہ کولہوں پر اس کا اثر نسبتاً کم ہوتا ہے۔

محققین نے نشاندہی کی ہے کہ یورپ اور شمالی امریکا میں تمباکو نوشی، موٹاپا اور کم آمدنی جیسے عوامل جسمانی درد کے مجموعی بوجھ میں 27 فیصد تک حصہ ڈالتے ہیں جبکہ کم آمدنی والے خطوں میں ان عوامل کا حصہ تقریباً 12 فیصد ہے۔

تحقیق میں خواتین کے درد کو نظر انداز کیے جانے اور انہیں ضرورت کے باوجود درد کم کرنے والی ادویات کم تجویز کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق جسمانی درد کا بوجھ کام کرنے کی عمر میں تیزی سے بڑھتا ہے اور کم آمدنی والے ممالک میں اس مسئلے کی شدت پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔