جنوبی کوریا کے خفیہ ادارے نے اپنے تازہ ترین جائزے میں بتایا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان انتہائی شدید موٹاپے کا شکار ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کم جونگ ان طویل عرصے سے موٹاپے اور سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔
ان کی صحت پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جاتی ہے، کیونکہ ان کی اچانک موت کی صورت میں جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک میں اقتدار کی منتقلی اور سیاسی استحکام سے متعلق سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا کے انٹیلی جنس ادارے کے حوالے سے رکنِ پارلیمان یون کون یونگ نے بتایا کہ کم جونگ ان کی صحت کی درجہ بندی انتہائی شدید موٹاپے کے زمرے میں کی گئی ہے اور ان کا وزن 140 کلو گرام (تقریباً 310 پاؤنڈ) سے زیادہ ہے۔
یون کون یونگ کے مطابق کم جونگ ان کو امراضِ قلب لاحق ہونے کا زیادہ خطرہ ہے، تاہم سیڑھیاں دوڑ کر چڑھنے سمیت جسمانی سرگرمیوں میں انہیں کسی دشواری کا سامنا نہیں دیکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کم جونگ ان کی مخصوص طبی ٹیم کی جانب سے مسلسل نگرانی کے پیشِ نظر یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ فی الحال صحت کے مسائل کی کوئی علامت موجود نہیں۔
کم جونگ ان کی صحت سے متعلق خدشات میں کیوں اضافہ ہوا؟
کم جونگ ان کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیاں 2020ء میں اس وقت زور پکڑ گئی تھیں جب وہ اپنے مرحوم دادا کی سالگرہ کی تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور تقریباً 20 روز تک منظرِ عام سے غائب رہے۔
اس دوران یہ افواہیں پھیل گئی تھیں کہ سرجری کے بعد ان کی حالت تشویش ناک ہو گئی ہے۔
کم جونگ ان کے والد کم جونگ اِل اور دادا کم اِل سونگ بھی موٹاپے اور سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا تھے، دونوں کی موت دل کے دورے کے باعث ہوئی تھی۔