روس کو پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی اجازت جنگ میں سرمایہ کاری ہے: یوکرینی صدر

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی—فائل فوٹو

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے جمعے کو خبردار کیا ہے کہ کشیدگی میں کمی کے کسی معاہدے کے بغیر روس پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنا واضح کمزوری ہے، جبکہ روس کو پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دینا جنگ میں سرمایہ کاری ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں زیلنسکی نے کہا کہ جمعے کی صبح کیف میں امریکی کانگریس کے 2 جماعتی وفد سے ملاقات ہوئی، انہوں نے روس پر پابندیاں مزید سخت کرنے، ماسکو پر دباؤ بڑھانے اور یوکرین کی حمایت میں اضافے پر زور دیا۔

زیلنسکی نے کہا کہ آج امریکا اور روس کے رہنماؤں کے درمیان گفتگو ہوئی، ایک ایسی گفتگو جو کسی مختلف نتیجے کی طرف لے جاتی ہے۔

یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کے حالیہ فضائی حملوں میں اضافہ دراصل میدانِ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ماسکو کی ناکامی کی تلافی کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ پسِ پردہ معاہدے کر کے اپنے لیے دباؤ میں کچھ کمی حاصل کرنا چاہتا ہے، تاکہ جنگ جاری رکھنے کے لیے مزید وقت اور مواقع حاصل کیے جا سکیں۔

زیلنسکی نے ماسکو کے ساتھ باہمی بنیادوں پر کشیدگی کم کرنے کے لیے جوابی اقدامات کرنے پر کیف کی آمادگی کا اعادہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ روسی تیل صاف کرنے والی تنصیبات اور دیگر مقامات پر یوکرین کے حملے، یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر روسی حملوں کا ردِعمل ہیں۔

زیلنسکی نے کہا کہ پیوٹن کو تحائف دینے سے نہ امن قائم ہو گا اور نہ ہی مہذب دنیا کو کوئی فائدہ پہنچے گا، روس ڈیزل کے بدلے مزید دہشت گردی اور بدعہدی سے جواب دے گا، ضرورت اس بات کی ہے کہ روس کے ساتھ باہمی بنیادوں پر کشیدگی میں حقیقی کمی لائی جائے۔

یوکرینی صدر کے یہ بیانات ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں امریکی صدر نے پیوٹن کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو انتہائی کامیاب قرار دیا تھا۔

اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ روس امریکا اور عالمی منڈی کو فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا۔