امریکا ایران پر رواں ماہ حملہ کیوں نہیں کرے گا؟

— فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر رواں ماہ حملہ نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک 7 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کر رہے ہیں، 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے امریکا کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔

امریکا ایران پر رواں ماہ حملہ کیوں نہیں کرے گا؟

اسرائیلی میڈیا نے ایک سینئر امریکی عہدیدار اور ایک دوسرے اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو خبردار کیا تھا کہ رواں ماہ امریکا کا ایران پر حملہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے عام انتخابات کے التواء کا سبب بن سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یروشلم کو خدشہ ہے کہ امریکا کی جانب سے حملے کی صورت میں ایران اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل حملے کرے گا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کے امکان پر غور کیا تھا، تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان گفتگو میں ایران کا معاملہ زیرِ بحث نہیں آیا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس کے بجائے 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملے کے 3 سال مکمل ہونے کے حوالے سے بات چیت کی، تاہم اس بات کا امکان کم دکھائی دیتا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ایران کے معاملے پر بات نہ کی ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ اور ان کے معاونین کے بیانات ایران کو اچانک حملے کے لیے تیار نہ ہونے دینے کی ایک اور کوشش ہوں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل مختلف میڈیا رپورٹس سامنے آئیں تھی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وائٹ ہاؤس نے پینٹاگون کو رواں ماہ ایران پر بڑے پیمانے کے حملے کی تیاری کرنے کی ہدایت دی ہے، یہ مدت امریکی مڈٹرم الیکشن سے چند روز قبل ختم ہوتی ہے۔