یمن کی سرکاری فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی باغیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے دوران 1 ہزار 860 جنگجوؤں کو ہلاک یا غیر مسلح کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے ٹھکانوں پر 2 ہزار 103 کارروائیاں کی گئی ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ حوثیوں کے خلاف کارروائیاں ’فجرِ یمن‘ آپریشن کے تحت مختلف محاذوں پر کی گئی ہیں۔
صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اتوار کو اس آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے صنعا سمیت حوثیوں کے زیرِ قبضہ تمام علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثی 2014ء سے دارالحکومت صنعا پر قابض ہیں۔
حالیہ لڑائی آبنائے باب المندب کے اطراف جاری ہے جو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے۔
یمنی حکومت کی حمایت یافتہ فورسز نے منگل کو تعز کے علاقے الوزیعہ اور بندرگاہ سے متصل شہر المخا کے قریب اہم علاقوں پر قبضے کے لیے بھی کارروائی شروع کی تھی۔
سعودی اتحاد کی کارروائیاں
رپورٹ کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بدھ کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے یمن کے صوبوں صعدہ، حدیدہ، الجوف اور مأرب میں حوثیوں کے 82 فوجی اہداف تباہ کر دیے ہیں، ان میں بیلسٹک میزائلز کی 11 ذخیرہ گاہیں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، مواصلاتی نظام اور اسلحے کے ذخائر بھی شامل تھے۔
سعودی اتحاد کے مطابق یہ کارروائیاں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثیوں کے حملوں کے بعد کی گئیں۔
سعودی حکام کے مطابق ان حملوں میں مجموعی طور پر 3 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ریاض کے ہوائی اڈے پر 1 شخص ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔
ابہا ہوائی اڈے کی تنصیبات پر حملے میں 2 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہوئے۔