کینیڈین شاعرہ اور مصنفہ این کارسن نے 2026 کا نوبیل انعام برائے ادب جیت لیا۔ نوبیل کمیٹی کے مطابق انہیں جدید ادب میں منفرد اور نئے انداز متعارف کرانے پر یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ نوبیل انعام کی رقم 12 ملین سوئیڈش کرونا، یعنی تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔
اسٹاک ہوم میں سوئیڈش اکیڈمی کی سیکریٹری انگرڈ کارل برگ کے مطابق جب این کارسن کو نوبیل انعام ملنےکے بارے میں بتایا تو وہ اس پر بہت حیران ہوئیں۔ ان سے زیادہ بات نہ ہوسکی انھوں نے صرف اتنا بتایا کہ اس وقت وہ آئس لینڈ میں ہیں۔
کارسن کی تخلیقات میں اکثر شاعری، نثر، مکالمے اور ترجمے کو ایک ایسی منفرد صنف میں یکجا کیا جاتا ہے جو روایتی ادبی اصناف کی حدود سے ماورا ہے۔ ٹورنٹو (کینیڈا) میں پیدا ہونے والی کارسن 2022 سے آئس لینڈ کی شہری ہیں۔
76 سالہ کارسن قدیم یونانی ادب کے تراجم کے حوالے سے زیادہ معروف ہیں۔ ان کی تخلیقات میں اوپرا کے لیے تحریر کردہ لبریٹو، ادبی تنقید اور 1998 میں شائع ہونے والا شعری ناول آٹو بائیوگرافی آف ریڈ شامل ہیں۔
سوئیڈش اکیڈمی کے مطابق ان کی تقریباً تمام ادبی تخلیقات ماہر لسانیات کی الفاظ کے بارے میں جنون کی حد تک دلچسپی اور شاعر کی نئے معانی کی تلاش کے امتزاج کے گرد گھومتی ہیں۔ کلاسیکی یونانی زبان سے ان کے تراجم کو اپنی جگہ مستقل ادبی تخلیقات بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
کارسن کے اسلوب کی ایک نمایاں مثال 2019 میں پیش کیا گیا پرفارمنس پیس نورمہ جین بیکر آف ٹرائے ہے، جس میں یوریپیڈیز کے ڈرامے ہیلن میں بیان کردہ ٹرائے کی کہانی اور مشہور اداکارہ مارلن منرو کی زندگی کو باہم جوڑا گیا ہے۔
وہ اس سال کے نوبیل انعام برائے ادب کی ممکنہ ونرز میں شامل تھیں۔ بک میکرز لیڈ بروک کے مطابق وہ اس انعام کی مضبوط امیدواروں میں شمار کی جا رہی تھیں۔ اب وہ اس اعزاز کے وصول کنندگان کی فہرست میں الیگزینڈر سولژنیتسن، ایلس منرو اور ارنسٹ ہیمنگ وے جیسے نامور ادیبوں کے ساتھ شامل ہو گئی ہیں۔