بالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کے سیٹ پر غصے میں آنے اور سخت رویہ اختیار کرنے سے متعلق کئی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں، جبکہ بعض اداکار بھی ان کے غصے سے متعلق اعتراف کر چکے ہیں۔
ایک انٹرویو میں معروف بھارتی اداکار رضا مراد نے سنجے لیلا بھنسالی کے کام کرنے کے انداز پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا موازنہ آنجہانی فلم ساز راج کپور سے کیا ہے اور دونوں کو اپنے کام میں کمال حاصل کرنے کے خواہش مند افراد قرار دیا ہے۔
75 سالہ اداکار نے بتایا ہے کہ 63 سالہ سنجے لیلا بھنسالی بعض اوقات اپنی بات دوسروں کو سمجھانے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، جس کے باعث وہ سیٹ پر موجود تکنیکی عملے پر برہم ہو جاتے ہیں۔
رضا مراد کے مطابق سنجے لیلا بھنسالی شروع ہی سے غصے میں نہیں ہوتے، بلکہ جب کام ان کی توقعات کے مطابق نہیں ہوتا تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں، یہ غصہ ذاتی نوعیت کا نہیں بلکہ کام سے متعلق ہوتا ہے۔
اداکار نے انکشاف کیا ہے کہ میں نے سنجے لیلا بھنسالی کو صرف اپنے معاونین ہی نہیں بلکہ بڑے اداکاروں پر بھی چیختے ہوئے دیکھا ہے۔
رضا مراد کے مطابق سنجے لیلا بھنسالی کو رنویر سنگھ، دپیکا پڈوکون اور پریانکا چوپڑا پر بھی غصہ کرتے دیکھا گیا، کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر کام ان کے تصور اور منصوبہ بندی کے مطابق ہو۔
راج کپور سے موازنہ کرتے ہوئے رضا مراد نے کہا ہے کہ دونوں ہدایت کار اپنے کام کے حوالے سے واضح ترجیحات رکھتے تھے اور وقت، شفٹ، اخراجات، سیٹ یا تاریخوں کو اپنے تخلیقی مقصد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیتے تھے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگر کسی کام کو مکمل کرنے میں 4 کے بجائے 8 دن بھی لگ جائیں تو انہیں اس پر اعتراض نہیں ہوتا، سیٹ پر پہنچنے کے بعد ان کی پوری توجہ کام پر ہوتی تھی۔
رضا مراد نے بتایا ہے کہ راج کپور کے ساتھ میرا تعلق کئی فلموں پر کام کرنے کے دوران قائم ہوا، جن میں ’پریم روگ‘، ’رام تیری گنگا میلی‘ اور ’حنا‘ شامل ہیں۔
اسی طرح رضا مراد نے سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ بھی متعدد فلموں میں کام کیا ہے جن میں ’گولیوں کی راس لیلا رام لیلا‘، ’باجی راؤ مستانی‘، ’پدماوت‘ اور ’گنگو بائی کاٹھیا واڑی‘ شامل ہیں۔