یورپی پارلیمنٹ میں ٹرمپ کے سنہری مجسمے کی نمائش

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں واقع یورپی پارلیمنٹ کی عمارت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک سنہری مجسمہ نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے، جس میں انہیں ایک چھوٹے قد کے شخص کے کندھوں پر بیٹھے دکھایا گیا ہے۔

ڈینش فنکار ینس گالشیوت کے تخلیق کردہ اس مجسمے کا عنوان ’دی اورنج پلیگ‘ رکھا گیا ہے، جس پر 23 قیراط سونے کی تہہ چڑھائی گئی ہے، مجسمے کی اونچائی 2.6 میٹر ہے۔

مجسمے کے نیچے درج پیغام میں لکھا ہے کہ میں ایک شخص کی کمر پر بیٹھا ہوں، وہ میرے بوجھ تلے دب رہا ہے، میں اس کی مدد کے لیے کچھ بھی کروں گا، سوائے اس کی کمر سے اترنے کے، انصاف کا بادشاہ۔

فنکار ینس گالشیوت نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ ٹرمپ قواعد پر مبنی عالمی نظام، جمہوری اقدار اور موسمیاتی بحران سے نمٹنے کی مشترکہ کوششوں کے لیے بڑے خطرات میں سے ایک کی نمائندگی کرتے ہیں۔

یہ مجسمہ ڈینش رکن یورپی پارلیمنٹ پر کلاوسن کی میزبانی میں نمائش کا حصہ ہے۔

 کلاوسن کا کہنا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ میں ایسے فن پارے کی نمائش ضروری ہے اور لوگوں کو خوف یا خود ساختہ پابندیوں کے تحت نہیں رہنا چاہیے۔

مجسمہ پیر کی صبح یورپی پارلیمنٹ کی عمارت میں لایا گیا تھا تاہم منگل کی سہ پہر نقاب کشائی تک اسے نارنجی کپڑے سے ڈھانپ کر رکھا گیا۔

یہ مجسمہ یورپی پارلیمنٹ میں نمائش کے لیے رہے گا، جس کے بعد نومبر میں ترکیہ میں ہونے والی اقوامِ متحدہ کی COP31 موسمیاتی کانفرنس میں منتقل کیا جائے گا۔

یہ مجسمہ اس سے قبل گزشتہ سال برازیل میں ہونے والی COP30 کانفرنس سمیت 2026ء میں جرمنی کی میونخ سیکیورٹی کانفرنس، ڈنمارک کے ریبلڈ فیسٹیول اور کوپن ہیگن میں ہونے والے ’ہینڈز آف گرین لینڈ‘ مظاہروں میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا جا چکا ہے۔