امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل ایران جنگ سے قبل کی سطح پر بحال ہو گئی ہے اور حالیہ دنوں میں اس اہم آبی گزرگاہ سے لاکھوں بیرل تیل منتقل کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز میری لینڈ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اب تیل کی ترسیل ان سطحوں پر ہو رہی ہے جو جنگ سے قبل کی سطح کے برابر ہیں اور بعض اوقات اس سے بھی تجاوز کر رہی ہیں۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے وزیرِ پیٹرولیم نے استعفیٰ دے دیا ہے، ایک عہدیدار نے ایرانی وزیر سے کہا تھا کہ ہماری کوئی معیشت نہیں، ہمارے پاس تیل نہیں، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔
دریں اثناء میری لینڈ میں نئے شپ یارڈ منصوبے کے اعلان کے لیے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ اچھے یا برے طریقے سے لیکن جلد ختم ہوگی، اس کا انحصار ایران پر ہے کہ وہ اسے کس طرح ختم کرنا چاہتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ اگر تنازع حل نہ ہوا تو واشنگٹن زیادہ سخت راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں ایران جنگ کو ختم کرنا ہو گا اور اب صرف یہ سوال ہے کہ کس طریقے سے؟، بہت جلد آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ کیا ہم جنگ کو اچھے طریقے سے ختم کریں گے یا برے طریقے سے۔
اپنے خطاب میں امریکی صدر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج کو شدید نقصان پہنچا ہے، وہ تباہ ہو چکی ہے، پورا ملک تباہ ہو چکا ہے اور جاری تنازع کے دوران امریکا مضبوط پوزیشن میں ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں ایران کے وزیرِ پیٹرولیم محسن پاک نژاد نے حال ہی میں استعفیٰ دے دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر عہدہ چھوڑا ہے، صدر مسعود پزشکیان نے ان کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ حمید بورد کو قائم مقام وزیرِ تیل مقرر کیا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں بحالی دیکھی گئی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ستمبر میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمدات اوسطاً 1 کروڑ 83 لاکھ بیرل یومیہ رہیں، جبکہ کئی دنوں میں تیل کی ترسیل جنگ سے قبل کی سطح سے بھی تجاوز کر گئی۔