انگلینڈ میں یونیورسٹی ڈگریوں کی لاگت کا بوجھ گریجویٹس پر منتقل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
کنسلٹنسی لندن اکنامکس کے نئے تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ انگلینڈ میں انڈرگریجویٹ ڈگریوں کی لاگت کا بڑا حصہ اب حکومت کے بجائے طلبہ اور گریجویٹس برداشت کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 25-2024ء میں حکومت کی جانب سے ڈگریوں کی لاگت میں حصہ صرف 16 فیصد رہ گیا جبکہ باقی 84 فیصد کا بوجھ طلبہ اور گریجویٹس پر منتقل ہوا ہے۔
تجزیے کے مطابق 13-2012ء میں حکومت مجموعی ڈگری لاگت کا تقریباً 48 فیصد برداشت کرتی تھی تاہم 12 سال کے دوران یہ شرح مسلسل کم ہوتی گئی اور 25-2024ء تک صرف 16 فیصد رہ گئی، اس کے برعکس طلبہ اور گریجویٹس کا حصہ 52 فیصد سے بڑھ کر 84 فیصد تک پہنچ گیا۔
یہ تجزیہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب انگلینڈ میں اعلیٰ تعلیم کے اخراجات اور طلبہ کے قرضوں کا نظام ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے ایجوکیشن سیکریٹری لوسی پاول پر پلان ٹو طلبہ قرضوں کی شرائط میں تبدیلی کے حوالے سے حکومتی پالیسی پر نظرِثانی کا دباؤ بھی موجود ہے۔
یونیورسٹیز یو کے کی چیف ایگزیکٹیو ویوین اسٹرن نے کہا ہے کہ تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ وقت کےساتھ حکومتیں ڈگری حاصل کرنے کی لاگت کا بڑھتا ہوا حصہ گریجویٹس پر منتقل کرتی رہی ہیں، جب ٹیوشن فیس کا موجودہ نظام متعارف کرایا گیا تھا تو اسے حکومت، طلبہ اور معاشرے کے درمیان مشترکہ ادائیگی کے ماڈل کے طور پر تصور کیا گیا تھا، اعلیٰ تعلیم کے نظام میں ایک نئے توازن کی ضرورت ہے۔