طاعون کا شبہ، 200 افراد قرنطینہ، دنیا کی تشویش بڑھ گئی

—فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا 

روس کے علاقے سائبیریا میں طاعون سے متعلق ایک تحقیقی ادارے کی خاتون ملازمہ کی پراسرار بیماری کے بعد تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے تاہم روسی حکام کا دعویٰ ہے کہ خاتون کی موت طاعون سے ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور صورتِحال قابو میں ہے۔

روسی میڈیا کے مطابق 28 سالہ دریا شپیلوا سائبیریا کے انسدادِ طاعون تحقیقی ادارے میں کام کرتی تھیں، وہ 30 ستمبر کو کام کے دوران بیمار ہوئیں اور 2 روز بعد قریبی شہر شیلخوف کے اسپتال میں دم توڑ گئیں۔

بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ خاتون ممکنہ طور پر لیبارٹری میں ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹنے کے واقعے کے بعد بیماری میں مبتلا ہوئی، تاہم اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔

خاتون سے رابطے میں آنے والے تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جبکہ اس اسپتال کے کچھ حصوں کو بھی محدود کر دیا گیا ہے جہاں ان کی موت واقع ہوئی۔

انسدادِ طاعون تحقیقی ادارے کے قریبی ایک المونیم پلانٹ نے اپنے ملازمین کو ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے۔

روسی صحت کے نگراں ادارے کے مطابق خاتون سے رابطے میں آنے والے افراد میں سے 2 افراد میں کوویڈ اور 2 میں رائنو وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، تاہم کسی اور متعدی بیماری کے کیس کی نشاندہی نہیں ہوئی۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کی بیماری میں ان جراثیم کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے جن پر وہ تحقیقی کام کرتی تھیں۔

علاقائی گورنر ایگور کوبزیف نے کہا ہے کہ خاتون کی موت نامعلوم وجہ کے نمونیا سے ہوئی اور گزشتہ چند روز کے دوران ادارے کے کسی اور ملازم میں ایسی بیماری سامنے نہیں آئی۔

طاعون کیا ہے؟

طاعون ایک خطرناک بیکٹیریا ’یرسینیا پیسٹس‘ (Yersinia pestis) سے ہونے والی بیماری ہے جو عام طور پر چوہوں اور دیگر چھوٹے جنگلی جانوروں میں پائی جاتی ہے اور ان کے پسو (flea) انسانوں تک اسے منتقل کر سکتے ہیں۔

طاعون کی 3 بڑی اقسام غدودی طاعون، خون کا طاعون اور پھیپھڑوں کا طاعون ہیں۔

غدودی طاعون میں جسم کے غدود سوج جاتے ہیں جبکہ خون کے طاعون میں خون متاثر ہوتا ہے، پھیپھڑوں کا طاعون نسبتاً کم عام لیکن انتہائی سنگین طاعون کی قسم ہے۔

اس کی عام علامات میں بخار، کپکپی، سر اور جسم میں درد، کمزوری، چکر، متلی، قے اور اسہال شامل ہیں۔

پھیپھڑوں کے طاعون میں سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، کھانسی اور بعض اوقات خون آلود بلغم بھی آ سکتا ہے۔

علاج نہ ہونے کی صورت میں پھیپھڑوں اور خون کا طاعون چند دنوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں تاہم بر وقت تشخیص کی صورت میں تمام اقسام کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے ممکن ہے۔

طاعون کیسے پھیلتا ہے؟

طاعون زیادہ تر متاثرہ پسو (flea)  کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔

متاثرہ جانور کے جسم یا جسمانی رطوبت سے براہِ راست رابطے سے بھی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔

پھیپھڑوں کا طاعون متاثرہ انسان یا جانور کی کھانسی سے نکلنے والے جراثیم والے قطروں کے ذریعے دوسرے شخص تک پہنچ سکتا ہے لیکن اس کے لیے عموماً قریبی اور براہِ راست رابطہ ضروری ہوتا ہے۔

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول  کے مطابق انسان سے انسان میں پھیپھڑوں کے طاعون کی آخری دستاویزی منتقلی 1924ء میں ہوئی تھی۔

کیا دنیا کو اس سے پریشان ہونے کی ضرورت ہے؟

طاعون سائبیریا سمیت دنیا کے بعض علاقوں میں اب بھی پایا جاتا ہے اور عالمی سطح پر ہر سال اس کے تقریباً 1,000 سے 2,000 کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ 

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2019ء سے 2025ء کے دوران زیادہ تر نئے کیسز جمہوریہ کانگو اور مڈغاسکر میں سامنے آئے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ روسی واقعے کے بارے میں معلومات محدود ہیں۔

برطانیہ کے امپیریل کالج کے ماہر ڈاکٹر مالک گبانی کے مطابق اگر لیبارٹری میں کسی خطرناک جراثیم سے کسی شخص کے متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو ایسے افراد کو شناخت، طبی نگرانی کے ساتھ قرنطینہ کیا جاتا ہے، ضرورت پڑنے پر انہیں بیماری سے بچاؤ کے لیے اینٹی بائیوٹکس بھی دی جا سکتی ہیں۔