پاکستان سفارتخانہ ویانا اور ویانا ڈپلومیٹک اکیڈمی کے اشتراک سے ویانا میں ہائی لیول انٹرنیشنل واٹر سمپوزیم کا انعقاد سفیرِ پاکستان کامران اختر ملک کی سربراہی میں منعقد کیا گیا۔
سمپوزیم میں سفارت کاروں، ماہرینِ آب، ماہرین تعلیم اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
سمپوزیم میں عالمی سطح پر پانی کے تحفظ، آبی سلامتی، بین الاقوامی تعاون اور سرحد پار دریاؤں کے انتظام سمیت سندھ طاس معاہدے سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سمپوزیم سے کلیدی خطاب کیا، جو پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام کے ذریعے پیش کیا گیا۔
انہوں نے دنیا کو درپیش بڑھتے ہوئے آبی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، شہری پھیلاؤ اور پانی کے غیر پائیدار استعمال کے باعث پانی کی سلامتی ایک سنگین عالمی مسئلہ بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، بہتر طرزِ حکمرانی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔
نائب وزیرِاعظم نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر التواء میں رکھنے کے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات پاکستان کے 25 کروڑ عوام کی پانی، خوراک اور توانائی کی سلامتی کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ کے نظام پر منحصر ماحولیاتی نظام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا اور معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے۔
انہوں نے 31 اگست 2026ء کے کورٹ آف آربیٹریشن کے متفقہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے تصدیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اس کی ذمے داریوں کا پابند ہے، پاکستان مغربی دریاؤں پر بھارتی پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن کی مطابقت سے متعلق جاری نیوٹرل ایکسپرٹ کارروائی میں مکمل اور تعمیری انداز میں شریک ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے زور دیا کہ معاہدوں کی ذمے داریوں کا احترام اور زیریں ساحلی ریاستوں کے حقوق کسی ایک دوطرفہ تعلق تک محدود نہیں بلکہ عالمی امن اور استحکام کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ دریا تعاون، استحکام اور انسانی ترقی کا ذریعہ ہونے چاہئیں، انہیں دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
سمپوزیم کا افتتاحی سیشن ویانا ڈپلومیٹک اکیڈمی کے ڈائریکٹر سفیر مارٹن ایچٹنگر اور سفیر پاکستان برائے آسٹریا محمد کامران اختر ملک کے افتتاحی کلمات سے ہوا، جبکہ سفارتخانہ پاکستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن عدیل احمد خان نے کارروائی کی نظامت کی۔
سمپوزیم کے پہلے پینل میں سرحد پار دریاؤں اور بین الاقوامی آبی قوانین کا جائزہ لیا گیا، اس نشست میں مصر کے سفیر محمد ابراہیم نصر، MEF یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر آیشے گل کباروغلو اور پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ نے شرکت کی، جبکہ مہر علی شاہ نے آن لائن شرکت کی۔
دوسرے سیشن میں عالمی آبی سلامتی اور بین الاقوامی تعاون پر گفتگو کی گئی، تاجکستان کے سفیر منوچہر جوبیر نے دوشنبہ واٹر کانفرنس کے حوالے سے ابتدائی کلمات ادا کیے، جبکہ ویتنام کے سفیر وو لے تھائی ہوانگ، UNIDO کی نٹالی ڈیگر اور IAEA کی جوڈی ملر نے بطور پینلسٹ شرکت کی۔
مقررین نے سفارتی تعاون، سائنسی شواہد، پائیدار صنعتی طریقہ کار اور پانی کے انتظام میں جدت سمیت مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔
سمپوزیم نے اس امر کو اجاگر کیا کہ بین الاقوامی معاہدے امن و استحکام کے اہم فریم ورک ہیں اور تمام فریقوں کی جانب سے ان کی پاسداری ضروری ہے۔
اجلاس میں سندھ طاس معاہدے کی اہمیت اور کورٹ آف آربیٹریشن کے فیصلے کو بھی اجاگر کیا گیا کہ یک طرفہ اقدامات معاہدے کی ذمے داریوں یا زیریں ساحلی ریاستوں کے حقوق کو ختم نہیں کر سکتے، سفیرِ پاکستان کامران اختر ملک نے آخر میں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔