روس میں طاعون کا خدشہ، ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن میں جلد رابطہ متوقع

—فائل فوٹو 

روس کے علاقے سائبیریا میں ایک 28 سالہ خاتون لیبارٹری محقق کی پراسرار موت کے بعد پھیپھڑوں کے طاعون کے پھیلنے کے خدشات پیدا ہو گئے جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن میں جَلد ٹیلی فونک رابطہ متوقع ہے۔

اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پیوٹن سے اس معاملے پر جلد بات ہو گی، دونوں ممالک کے درمیان تفصیلی مشاورت پہلے ہی جاری ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی روس پر زور دیا ہے کہ وہ محقق کی موت اور ممکنہ بیماری سے متعلق مزید معلومات دنیا کے ساتھ شیئر کرے۔

28 سالہ دریا شپیلووا گزشتہ ہفتے سائبیریا کے ارکتسک انسدادِ طاعون تحقیقی ادارے میں نامعلوم وجہ سے ہونے والے نمونیا کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔

روسی حکام کے مطابق متوفی سے رابطے میں آنے والے افراد میں اب تک طاعون کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے اور ان کے جسم میں لیبارٹری کے کام سے منسلک کوئی جرثومہ بھی نہیں ملا۔

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول نے صورتِ حال کی نگرانی کی تصدیق کی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق عوامی صحت کو خطرہ بہت کم ہے۔

ادارے نے روس سے بیماری کے جرثومے اور شدید نمونیا کی وجہ سے متعلق شفاف معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔