برطانوی ایئر بیس سے طیارے غلطی سے نہیں ہٹائے، دھمکی ملی تھی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ — فائل فوٹو

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ دھمکی پر برطانیہ کی کاؤنٹی گلوسٹر شائر میں واقع ایئر بیس پر تعینات بی ون بمبار طیارے سمیت تمام امریکی بمبار طیارے واپس امریکا منتقل کر دیے گئے ہیں۔

اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طیارے برطانوی ایئر بیس سے غلطی سے نہیں اڑے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکا کو ایک دھمکی موصول ہوئی تھی، جس کے بعد طیاروں کو خطرے کی زد میں رکھنے کے بجائے وہاں سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکام ان لوگوں کو جانتے ہیں جنہوں نے یہ دھمکی دی تھی۔

اس سے قبل امریکی حکام نے کہا تھا کہ ایرانی ڈرون حملے کے خدشے پر امریکا نے برطانوی ایئر بیس سے بمبار طیارے واپس امریکا منتقل کیے۔

دو امریکی حکام نے منگل کو برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ ایران کی جانب سے برطانیہ کے ایک اہم فوجی بیس پر پیچیدہ ڈرون حملہ کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی کے خدشے کے باعث امریکا نے اپنے بی ون بمبار طیارے وہاں سے ہٹا لیے تھے۔

طیاروں کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب متعدد افراد کو دہشت گردی کی مبینہ منصوبہ بندی کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا، اس معاملے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

طیاروں کی منتقلی کے باوجود برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ نے مؤقف برقرار رکھا ہے کہ آر اے ایف فیئر فورڈ محفوظ ہے۔

دوسری جانب برطانوی حکام ایئر بیس سے متعلق سیکیورٹی خدشات کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔