پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جبکہ مذاکرات شیڈول کے مطابق آج ختم ہوں گے۔
ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ اب تک ہونے والے تمام مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھے ہیں اور پاکستان مذاکرات کی کامیابی کے لیے پُرامید ہے، پاکستان نے آئی ایم ایف کے اہم اہداف بھی پورے کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد وزارتِ خزانہ، پیٹرولیم اور پاور ڈویژن کے حکام سے ملاقات کرے گا، آٹو پالیسی، فیول سبسڈی، گندم اور چینی کی ڈی ریگولیشن سے متعلق بریفنگ کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔
آئی ایم ایف وفد کو گیس ٹیرف اور گردشی قرضے سے متعلق بھی بریفنگ دی جائے گی۔
حکام کے مطابق مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ ہو گا، جس کے بعد پاکستان کے دونوں جائزے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ میں پیش کیے جائیں گے، بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کے لیے اگلی اقساط جاری کی جائیں گی۔
حکام کے مطابق توسیعی فنڈ سہولت اور موسمیاتی مالی معاونت کے پروگرام کے جائزوں کے لیے بیک وقت مذاکرات جاری ہیں، دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو اگلی اقساط میں مجموعی طور پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز ملیں گے۔
وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت چوتھے جائزے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں، جبکہ موسمیاتی مالی معاونت پروگرام کے تیسرے جائزے کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔
مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کی پانچویں قسط ملے گی، جبکہ موسمیاتی مالی معاونت پروگرام کی تیسری قسط کے تحت بھی فنڈز جاری کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو اب تک آئی ایم ایف سے 4 ارب 60 کروڑ ڈالر مل چکے ہیں۔
اس وقت پاکستان بیک وقت آئی ایم ایف کے دو قرض پروگراموں میں شامل ہے۔
پاکستان آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کا حصہ ہے، جبکہ موسمیاتی مالی معاونت کے لیے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے پروگرام میں بھی شامل ہے۔